مجدد الف ثانی اور شاہ ولی الله کے جعلی فضائل

لکھاری: ڈاکٹر مبارک علی
1857ء کے  بعد  ہندوستان کے مسلمان معاشرے میں علماء کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کیلئے یہ بھی ضروری تھا کہ تاریخ میں ان کے مثبت کردار کو ابھارا جائے اور یہ ثابت کیا جائے کہ تاریخ میں علماء نے ہمیشہ شاندار خدمات انجام دی ہیں۔ اس قسم کی تاریخ لکھنے کا کام بھی علماء نے کیا اور یہ تاریخ عقیدت سے بھرپور جذبات کے ساتھ لکھی گئی کہ جس کو لکھتے وقت تاریخی واقعات کی تحقیق یا تجزیے کی ضرورت کو اہمیت نہیں دی گئی۔ بلکہ یہ کوشش کی گئی کہ علماء کی قربانیوں سے ان کے کردار اور مذہب سے ان کے لگاؤ اور شغف کو ظاہر کیا جائے۔ اس سلسلے میں سب سے اچھی مثال  ابو الکلام آزاد (1888ء۔ 1958ء)کی ہے کہ جو مؤرخ نہیں تھے، ایک اچھے ادیب اور انشا پرداز تھے۔ انہوں نے" تذکرہ " میں علماء کا ذکر کرتے ہوئے جو انداز اختیار کیا ہے وہ ادیبانہ ہے، تاریخی نہیں۔ مگر ان کے غیر تاریخی فیصلوں کا اثر ہمارے معاشرے پر بہت گہرا ہوا اور اس نے تاریخی گمراہی پیدا کرنے میں نمایاں حصہ لیا۔ مثلا احمد سرہندی(1564ء۔ 1624ء) کی شخصیت کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ:۔
”شہنشاہ اکبر کے عہد کے اختتام اور عہد جہانگیری کے اوائل میں کیا ہندوستان علماء اور مشائخ حق سے بالکل خالی ہو گیا تھا؟ کیسے کیسے اکابر موجود تھے؟ لیکن مفاسد وقت کی اصلاح و تجدید کا معاملہ کسی سے بھی بن نہ آیا۔ صرف حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمتہ الله علیہ کا وجود گرامی تن تنہا اس کاروبار میں کفیل ہوا“[1]۔

شاہ  ولی الله (1703ء۔ 1762ء)کے بارے میں ان کے تاثرات ہیں کہ:۔
”دعوت اصلاح امت کے جو بھید پرانی دہلی کے کھنڈرات اور کوٹلہ کے حجروں میں دفن کر دئیے تھے، اب سلطان وقت و سکندر عزم کی بدولت شاہ جہاں آباد کے بازاروں اور جامع مسجد کی سیڑھیوں پر ان کا ہنگامہ مچ گیا۔ اور ہندوستان کے کناروں سے بھی گزر کر نہیں معلوم کہاں کہاں تک چرچے  اور افسانے پھیل گئے۔ جن باتوں کو کہنے کی بڑوں بڑوں کو بند حجروں کے اندر بھی تاب نہ تھی، وہ اب سر بازار کی جا رہی اور ہو رہی تھیں۔ اور خون شہادت کے چھینٹے حرف و حکایات کو نقوش و روداد بنا کر صفحۂ عالم پر ثبت کر رہے تھے“ [2]۔
اس انداز بیاں نے ہندوستان کے تعلیم یافتہ مسلمان طبقے کو بڑا متاثر کیا۔ اور تاریخ کی یہ غلط تفسیر ذہنوں میں اس طرح سے راسخ ہوئی کہ حقائق کو دریافت کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی گئی۔ چنانچہ حکمرانوں کی سیاسی تاریخ کے متوازی علماء کی مذہبی تاریخ کی تشکیل ہوئی اور حکمرانوں کی سیاسی تاریخ پر تنقید کرتے ہوئے اس بات کو ثابت کیا  گیا کہ صرف علماء نے ہندوستان کے معاشرے میں اسلامی تشخص کو برقرار رکھا۔ علماء کی تاریخ کی تشکیل میں ایک دقت جو علماء مورخوں کو پیش آئی وہ یہ کہ تاریخ میں علماء حکمرانوں کے ساتھ تعاون اور مفاہمت پر عمل کرتے نظر آ ئے ۔ اس لیے انہوں نے اس کا یہ حل نکالا کہ انہیں دو قسموں میں تقسیم کیا: علمائے سو اور علمائے حق۔ علمائے سو دنیا دار، وقت کے ساتھ چلنے والے ، موقعہ پرست اور حکمرانوں کی ضرورت کے مطابق مذہب کو بدلنے والے تھے جبکہ  علمائے حق نے دنیاوی فوائد سے دور رہ کر صرف حق کی بات کی۔ مگر اس میں  مصیبت یہ ہے کہ ہر گروہ دوسرے کو علمائے سو اور خود کو علمائے حق کہتا ہے اور تاریخ کو اس انداز سے لکھتا ہے کہ دلائل ان کے حق میں جاتے ہیں۔
علماء مورخوں کی ایک جماعت نے، جو مسلمان معاشرے میں راسخ العقیدتی کی جڑیں گہری کرنا چاہتے تھے، انہوں نے برصغیر کی تاریخ کی تشکیل اس طرح سے کی کہ احمد سرہندی، شاہ ولی الله اور ان کا خاندان اور سید احمد شہید کی شخصیتوں کو مرکز بنا کر تاریخ کے عمل کو ان کے گرد محدود کر دیا۔ اس تاریخ کی تشکیل میں تاریخ کو اس انداز میں پیش کیا گیا کہ یہ راسخ العقیدتی اور مذہبی بدعتوں کے درمیان ایک کشمکش تھی۔ کہ جس میں ایک طرف وہ قوتیں تھیں کہ ہندوستان میں مسلمان معاشرے کے تشخص کو ختم کرنے کے درپے تھیں۔ اور دوسری طرف وہ طاقتیں تھیں جو خالص مذہب اور  شریعت کے قیام کیلئے جدوجہد میں مصروف تھیں۔ ان کے نکتہٴ نظر سے احمد سرہندی، شاہ ولی الله اور سید احمد شہید کی شخصیتیں ہندوستان کی تاریخ کی وہ شخصیتیں ہیں کہ جنہوں نے اپنی تحریروں، اپنے عمل اور اپنی جدوجہد سے نہ صرف راسخ العقیدتی کا دفاع کیا بلکہ احیائے دین کی تحریک کو زندہ رکھا۔  اس سلسلے میں مبالغہ آمیز روایات کے ذریعے ان کی شخصیتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔مثلا احمد سرہندی کے بارے میں ان کے معتقدین نے جو باتیں پھیلائیں ان میں یہ ثابت کیا گیا کہ محض ان کی شخصیت کی وجہ سے عہد مغلیہ میں دین اسلام باقی رہا۔ اور ان کی کوششوں سے جہاں گیر و شاہ جہاں مذہب کی طرف راغب ہوئے اور عہد عالمگیری میں شریعت کے نفاذ پر عمل ان کی تحریک کا نتیجہ تھا۔ جیسا کہ شیخ اکرام نے لکھا ہے ،  ابو الکلام آزاد کے اس فقرے نے کہ اکبر (1542ء۔1605ء) کے الحاد کا تن تنہا مقابلہ شیخ احمد سرہندی نے کیا، لوگوں میں تاریخ کے بارے میں گمراہ کن خیالات پیدا کرنے میں بڑی مدد دی۔ اور ان کے بعد آنے والے علماء  اور مورخوں نے اس فقرے کی روشنی میں احمد سرہندی کی شخصیت کو تاریخ کی ایک انتہائی فعال شخصیت بنانے کی کوشش کی۔ اور اس طرح سے اکبر اور احمد سرہندی کی دو متضاد شخصیتیں ابھر کر آ گئیں جو ایک دوسرے سے باہم برسرپیکار ہیں۔ اکبر ہندی قومیت کا حامی، صلح کل کا پیروکار، عقل کا پرستار اور اشتراک کا حامی ہے تو احمد سرہندی اسلامی تشخص، راسخ العقیدتی اور خالص اسلام و شریعت کا داعی ۔  اس کشمکش میں احمد سرہندی فاتح قرار پاتے ہیں کہ جن کی وجہ سے جہانگیر (1569ء۔1627ء)اور شاہجہاں (1592ء۔1666ء)کے دربار میں اسلامی قوانین کا نفاذ ہوا، دارا شکوہ کو شکست ہوئی اور محی الدین اورنگزیب(1618ء۔1707ء) برسر اقتدار آیا۔
احمد سرہندی کی شخصیت کو ابھارنے اور فعال بنانےکی کوشش میں اکبر کے دور حکومت کو زیادہ سے زیادہ گھناونا بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اور اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ اسلام کا مخالف اور غیر شرعی اور غیر اسلامی روایات کو فروغ دینے والا تھا۔ اور اس کے عہد میں ہندوؤں کا غلبہ بڑھ گیا تھا ۔ وہ علیٰ الاعلان اپنے مذہبی فرائض ادا کرنے لگے تھے جو کہ ایک اسلامی حکومت کیلئے باعث شرم تھا۔ اور اسلام تقریباً ہندوستان سے ختم ہونے والا تھا۔ ایک مذہبی عالم مولانا مناظر احسن گیلانی نے اکبر اور احمد سرہندی کے اس مقابلے پر مضمون لکھا ہے۔ اس میں انہوں نے اکبر کے عہد میں جو غیر اسلامی روایات فروغ پائی تھیں ان کی تفصیلات اس طرح دی ہیں: سود، جوئے اور شراب کو حلال کرنا، داڑھی رکھنے کی ممانعت، نکاح کے قوانین میں مضحکہ خیز ترمیمیں، غسل جنابت کی منسوخی، بے پردگی، زنا کی تنظیم، سؤروں اور کتوں کا تقدس، گائے اور بھینس کی حرمت اور ہندی کتابوں سے شغف وغیرہ۔ ان تمام باتوں کیلئے انہوں نے دربار اکبری کے مؤرخ ملا عبد القادر بدایونی کی کتاب ”منتخب التواریخ“ کو بنیاد بنایا ہے۔ جس طرح سے واقعات کو توڑ مروڑ کر اپنی پسند کے معانی نکالے ہیں اس کا اندازہ خود بدایونی کے اصلی بیانات سے ہوتا ہے۔ مثلا شراب کے بارے میں اکبر نے جو اصلاحات کی تھیں، ان کے بارے میں بدایونی لکھتا ہے کہ:۔
”شراب بدن کی اصلاح کیلئے طبی طور پر استعمال کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ اس کے پینے سے کوئی فتنہ فساد نہ ہو۔ اس طرح شراب پینا جائز ہے۔ البتہ حد سے گزرا ہوا نشہ اور اسکی وجہ سے لوگوں کا جمع ہو کر شور و غوغا کرنے کی خبر اگر  بادشاہ کو  پہنچ جاتی تو وہ سخت وار و گیر کرتا تھا“ [3]۔
شادی کے  سلسلے میں جن قوانین کو مولانا مضحکہ خیز قرار دے رہے ہیں وہ یہ ہیں:۔
”سولہ سال سے پہلے لڑکوں اور چودہ سال سے پہلے لڑکیوں کی شادی جائز نہ ہو گی۔ اس لیے کہ اس سے بچے کمزور پیدا ہوتے ہیں“ [4]۔
نیز اکبر نے اس پر زور دیا تھا کہ کوئی ایک سے زیادہ شادی نہیں کرے گا۔ اکبر پر جو زنا کی تنظیم کا الزام لگایا گیا ہے تو اس کے بارے میں بدایونی کی تحریر اس طرح ہے:۔
”شہر سے باہر ایک آبادی بنائی گئی اور اس کا نام شیطان پورہ  رکھا گیا ۔ وہاں باضابطہ محافظ، نگران اور داروغہ مقرر تھے تا کہ جو یہاں سے یا گھر سے لے جانا چاہے، اپنا نام و نسب لکھوائے“ [5]۔
اسی طرح اکبر کے ”دین الہیٰ “ کو ایک نیا دین و مذہب بنا کر پیش کیا گیا اور اس کے عہد کی سماجی و معاشرتی اصلاحات کو غیر اسلامی قرار دے کر احمد سرہندی کی شخصیت کو اس کے مدمقابل کے طور پر لایا گیا۔ نہ صرف یہ، بلکہ اکبر کے عہد کے علماء کی کردار کشی بھی کی گئی تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ صرف ان ہی کی تن تنہا ذات نے دین کی خدمت کے کارنامے سرانجام دئیے۔ اگرچہ معاصر تاریخوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ احمد سرہندی کی شخصیت اکبر کے عہد میں ایک گمنام شخصیت تھی۔ جہانگیر کے دور میں ان کا اثر ان کے مریدوں کے محدود حلقہ میں تھا۔ اور انہوں نے جہانگیر کے امراء کو جو خطوط لکھے تو کہیں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان امراء نے ان خطوط کو کس حد تک سنجیدگی سے لیا اور یہ کہ کس حد تک وہ ان کے عقیدت مند تھے۔ کیونکہ ان خطوط کا لب و لہجہ، بقول پروفیسر مجیب، بعض اوقات خوشامدانہ ہے۔ ان کے معتقدین نے بعد میں مفروضوں پر اس عمارت کی تعمیر کی کہ ان کے خطوط نے ان امراء کو متاثر کیا اور انہوں نے دربار کی فضا کو بدلا۔
اس ضمن میں یہ تشریح کر دینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ میں کوئی ایک فرد تن تنہا موثر نہیں ہوتا ہے۔ اور وہ اس قابل نہیں ہوتا ہے کہ حالات کو یا تاریخی عمل کو موڑ سکے۔ جب تک معاشرے کے سیاسی، سماجی اور معاشی عوامل ساتھ نہ ہوں، اس وقت تک تحریک معاشرے میں مقبول نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ ہر تحریک کے پس منظر میں مختلف طبقاتی مفادات ہوتے ہیں جو تحریک کو موثر بناتے ہیں۔ جرمنی میں مارٹن لوتھر، پوپ اور کیتھولک  چرچ کے خلاف اسلئے کامیاب ہوا کہ اس کے ساتھ معاشرے کی اکثریت تھی جو کیتھولک  چرچ کی لوٹ گھسوٹ سے بیزار تھی۔ جرمنی کے حکمران اس کے حامی تھے کیوں کہ کیتھولک  چرچ کی وجہ سے ان کا اقتدار اور طاقت محدود تھی۔ اس لیے انہوں نے اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے مارٹن لوتھر کا ساتھ دیا۔ اکبر کے عہد میں اس قسم کی کسی بے چینی کا عوام میں کوئی تذکرہ نہیں آتا، بلکہ اس کے پورے عہد میں اس نے جو سماجی و سیاسی و معاشی اصلاحات کی تھیں انہوں نے معاشرے کو مستحکم بنانے میں حصہ لیا تھا۔ صرف علماء اور امراء کا ایک محدود طبقہ ضرور تھا جو اکبر کی رواداری اور صلح کل کی پالیسی کا مخالف تھا۔ مگر اس طبقے کے مفادات اس قدر محدود تھے کہ یہ ان کی بنیاد پر کوئی تحریک نہیں چلا سکے۔ اس لیے عہد اکبری میں احمد سرہندی کی شخصیت ایک گمنام شخصیت تھی کہ جن کا اثر و رسوخ ان کے اپنے مریدوں تک محدود تھا۔ انہیں ایک مقبول عام عالم اور فعال شخصیت کے طور پر پیش کرنا دور ِجدید کے علماء اور ان کے ہم خیال مورخوں کا کام ہے۔
دوسری شخصیت جسے جدید دور میں بڑی اہمیت دی جا رہی ہے وہ شاہ ولی الله کی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا شاہ ولی الله اپنے دور میں لوگوں کو ذہنی طور پر متاثر کرنے میں کامیاب ہوئے؟ اس کا جواب محمود احمد برکاتی نے اس طرح سے دیا ہے کہ:۔
” ان کے اپنے عہد میں ان کا اثر بڑا محدود تھا کیونکہ اس وقت تک ہندوستان میں چھاپہ خانہ نہ ہونے کی وجہ سے کتابوں کی تعداد محدود ہوتی تھی اور قلمی نسخے بہت کم تعداد میں لوگوں تک پہنچتے تھے۔ اسلئے کتابیں پڑھنے والے لوگ بہت کم ہوتے تھے۔ شاہ ولی الله کے جانشینوں میں ان کی تحریروں اور ان کے خیالات کی جھلک بہت کم نظر آ ئی ۔ یہاں تک کہ دیوبند کے نصاب میں بھی ان کی کوئی کتاب شامل نہیں تھی“ [6]۔
شاہ ولی اللہ کی شخصیت کو دور جدید میں اہمیت دی گئی ہے اور اس  میں زیادہ حصہ مولانا عبید الله سندھی کا ہے جو ہندوستان سے باہر جانے کے بعد بدلتے ہوئے حالات سے بے انتہا متاثر ہوئے۔ خصوصیت سے 1917ء کے روسی انقلاب نے ان کے ذہن پر بڑا گہرا اثر ڈالا اور وہ اشتراکی نظام کے زبردست حامی ہو گئے۔ مگر ان کے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ وہ اس نظام کو غیر اسلامی شکل میں اختیار کرنے پر تیار نہ تھے۔ اس لیے انہوں نے مسلمان مفکرین میں سے ایسے مفکر کی تلاش شروع کی جسے مارکس بنا کر اس کے افکار پر وہ اسلامی سوشلزم کی بنیاد رکھ سکیں۔ اس مقصد کیلئے شاہ ولی الله کے ہاں انہیں کچھ ایسے معاشی نظریات ملے کہ جنھیں انہوں نے جدید زبان میں پیش کر کے جدید اور انقلابی بنا دیا۔ شاہ ولی الله کے افکار و نظریات کی تفسیر کرتے ہوئے انہوں نے انہی پہلوؤں کو اجاگر کیا جو ان کے نظریات سے ہم آھنگ تھے۔ اس کا اظہار انہوں نے ”شاہ ولی الله کی سیاسی تحریک“ اور اپنے دوسرے مضامین میں کیا ہے۔ عبید الله سندھی سے متاثر ہو کر مولانا محمد میاں نے اپنی کتاب ” علمائے ہند  کا شاندار ماضی“، کہ جس میں انہوں نے بڑی عقیدت کے ساتھ علماء کی تاریخ لکھی ہے، کی جلد دوم میں شاہ ولی الله کو ایک انقلابی اور ان کی تحریک کو وسیع اور جامع تحریک کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کی کتاب کے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:۔
شاہ صاحب فوجی انقلاب کے حامی تھے ،مگر وہ فوجی انقلاب جو جہاد کے اصولوں پر ہو ۔۔۔۔۔ ایسا انقلاب پیشہ ور سپاہیوں کے ذریعے نہیں ہو سکتا بلکہ ان رضاکاروں کے ذریعے ہو سکتا ہے جن کی تربیت خاص طور پر کی گئی ہو  ۔۔۔۔۔ شاہ ولی الله نے سب سے پہلے یہی خدمت انجام دی۔ آپ نے اصلاحی نظریات مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ ٹریننگ سنٹرقائم کئے“ [7]۔
”لہذا اخلاق اور مذہب دونوں کا تقاضا تھا کہ انقلاب کیلئے سب سے پہلے اس کی تربیت کی جائے جس کے اقتدار اعلیٰ  پر سارا ملک اعتماد کئے ہوئے تھا اور جس کی گردن پر تمام وفاداروں کی ترقی اور فلاح و بہبود کا بوجھ لدا ہوا تھا“ [8]۔
اس کے بعد انہوں نے شاہ ولی الله کی تحریک کے مراکز بتائے ہیں جن میں دہلی، رائے بریلی، مدرسہ نجیب آباد، ٹھٹھہ اور لکھنؤ ہیں  جہاں  ،ان کے بقول انقلاب کیلئے، شاہ ولی الله نے مسلمان  حکمرانوں کی تربیت کی۔ شاہ ولی الله کے افکار و نظریات اپنے عہد میں کوئی عملی نتائج پیدا نہیں کر سکے اور ناکام ہوئے ، اب انہی نظریات کو جدید دور کے مسائل کا حل بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اور جدید علوم کی روشنی میں ان کے خیالات کو جدید اصطلاحات کے قالب میں پیش کیا جا رہا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شاہ ولی الله کو یہ اہمیت کیوں دی جا رہی ہے جبکہ وہ اپنے عہد کے معاشرے کو متاثر نہیں کر سکے اور مغل زوال کے ساتھ جو معاشرتی زوال ہوا، اس کو نہ روک سکے؟۔ اسلئے آج جبکہ جدید دور میں حالات بدل چکے ہیں، زمانہ اور اس کے تقاضے بدل چکے ہیں، ان حالات میں وہ کس طرح ہماری مدد کر سکتے ہیں؟
اس سوال کا جواب کچھ اس طرح سے سمجھ میں آتا ہے کہ مغل زوال سے لے کر عہد برطانیہ میں مسلمان معاشرہ ذہنی طور پر اس قدر پسماندہ ہو چکا تھا کہ اس نے کوئی ایسی شخصیت پیدا نہیں کی جو جدید زمانے کو سمجھ کر آج کے مسائل کا حل تلاش کرتی۔ مسلمان معاشرے نے کوئی تخلیقی مفکر، سیاست دان اور فلسفی پیدا نہیں کیا۔ یہ احساس کمتری ہے کہ ہر شخص کو آج علامہ اور مفکر کے خطاب دے کر ہم اپنی کم مائیگی کو پورا کرتے ہیں۔ اس کمی نے شاہ ولی الله کو دوبارہ پیدا کیا۔ ان کی تصانیف کو کھنگالا گیا اور انہیں جدید قالب میں ڈھال کر مسلمان معاشرے کے نجات دہندہ کی حیثیت سے پیش کیا گیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان کے پورے خاندان کو ایک تحریک کا درجہ دے دیا گیا تاکہ وہ سلسلہ جو احمد سرہندی سے شروع کیا جاتا ہے وہ ٹوٹنے نہ پائے اور اس کا تسلسل برقرار رکھا جائے۔ اس تحریک کی تشکیل مفروضوں پر ہوئی۔ ہمارے دور کے مشہور مؤرخ اشتیاق حسین قریشی نے جس انداز میں اس تحریک کو پیش کیا ہے ، اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ ایک بڑی منظم اور فعال تحریک تھی:۔
”اگر تحریک کو مقبول عام بننا تھا تو اس کی تنظیم اور منصوبہ بندی بڑی احتیاط سے ہونی چاہئیے تھی اور اسے لائق اور معتمد رہنماؤں کی قیادت میں چلنا چاہئیے تھا۔ بڑی توجہ کے ساتھ زمین ہموار کرنے، لوگوں کو حمایت کیلئے تیار کرنے، روپیہ اور رضاکاروں کی فراہمی کیلئے جگہ جگہ مراکز قائم کرنے اور ممکن الحصول مقاصد معین کرنے کی ضرورت تھی اور اس کام کی تکمیل کے بعد تحریک کو اعلانیہ شروع کرنا تھا ۔۔۔۔۔ تاہم شاہ عبد العزیز (شاہ ولی الله کے بیٹے) اور ان کے رفقائے کار نے آھستہ آھستہ ، بڑے صبر و تحمل کے ساتھ ان مشکلات پر قابو پا لیا۔ ان کی موقعہ شناسی اور ان کا طریقہ کار اپنی محتاط روش کیلئے قابل تعریف ہیں، کیوں کہ انہوں نے مداخلت کا کوئی بہانہ انگریزوں کے ہاتھ نہیں آنے دیا“ [9]۔
اس طرح سید احمد شہید کی ”تحریک مجاہدین“  ، شاہ ولی الله اور ان کے خاندان کی تحریک کا عملی حصہ قرار پائی کیوں کہ انہوں نے احمد سرہندی اور شاہ ولی الله کے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی۔ مولانا ابو الحسن ندوی اورمولانا  غلام رسول مہر نے جو سید احمد شہید پر کتابیں لکھی ہیں ان میں انہوں نے اس پوری تحریک کا عقیدت سے جائزہ لیا ہے اور اشتیاق حسین قریشی نے بھی اسے شاہ ولی الله تحریک کا ایک سلسلہ بتایا ہے:۔
”اس نئی تحریک کی قیادت کیلئے سید احمد کو تیار کرنے میں شاہ عبد العزیز کا ایک اہم کردار تھا۔ یہ یقین کرنے کیلئے کہ شاہ عبد العزیز نے جہاد کے مسئلےپر کافی غور و غوض کیا تھا اور اپنے ذہن میں اس کیلئے ایک منصوبہ بھی تیار کیا تھا، قوی وجود موجود ہیں۔ بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح ان کا ذہن افغانستان اور پٹھان قبائل کی طرف متوجہ ہونا ایک قدرتی عمل تھا“ [10]۔
شاہ ولی الله کے نظریات کو بنیاد بنا کر اسے ایک تحریک کی صورت میں پیش کرنا جدید دور کے علماء اور چند مورخوں کا کام ہے۔ اور یہ سب ان کے ذہن کی اختراع اور تاریخی حقائق سے دوری کی بات ہے۔ اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ عہد برطانیہ میں جب انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک شروع ہوئی تو اس میں علماء نے بھی حصہ لینا شروع کیا۔ مسلمان معاشرے میں اپنی حیثیت کو بہتر بنانے کیلئے ضروری تھا کہ ماضی میں اپنے طبقے کے  کردار کو شاندار طریقے سے پیش کیا جائے ۔ تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ علماء نے ہر موقع پر ، ہر مرحلے پر، مسلمان معاشرے کی قیادت کی ہے۔ لہذا جدید عہد میں بھی ان کی قیادت پر اعتماد اور بھروسہ کیا جائے۔ اس مقصد کیلئے علماء کی دعوت و عزیمت، ان کی قربانیاں، ان کی بہادری و حق گوئی کو تاریخ  کے ذریعے ثابت کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ علماء کیلئے متحرک اور فعال ہونا اسلئے بھی ضروری ہو گیا تھا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان معاشرے کی رہنمائی جدید تعلیم یافتہ اور سیکولر ذہن کے لوگوں کے ہاتھ میں آ ئے۔اردو زبان کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ تاریخ نویسی میں سائنسی طریقہ کار اختیار کرنے کے بجائے اس کو جذبات کے اظہار کا ذریعہ بنایا گیا۔ اردو میں تاریخ لکھنے کا کام اس طبقے نے کیا کہ جس کا تعلق علماء سے تھا۔ لہذا اس نے اس کو اپنے مذہبی نظریات کی تشہیر کا ایک ذریعہ بنایا۔ خوش نما الفاظ اور خوبصورت اسلوب کے ساتھ تاریخ کو یوں بیان کیا گیا کہ تاریخی واقعات اور تاریخی شخصیتیں اپنی شکل کھو بیٹھیں اور انکی حیثیت تاریخی سے زیادہ مذہبی اور مافوق الفطرت ہو گئی۔
جن علماء نے تاریخ کو مذہبی بنانے کا کام کیا ان میں مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا منظر احسن گیلانی، مولانا محمد میاں، مولانا ابو الاعلیٰ مودودی اور مولانا منظور نعمانی شامل ہیں۔ یہ حضرات مؤرخ نہیں تھے اور ان کا مقصد تاریخی حقائق کا کھوج لگانا یا ان کا تجزیہ کرنا نہیں تھا۔ بلکہ یہ تاریخ کو اپنے مذہبی عقائد کی تبلیغ کیلئے ایک ذریعہ بنانا چاہتے تھے۔ لیکن ان کی تحریروں نے برصغیر کے مسلمانوں میں بڑی تاریخی غلط فہمیوں کو پیدا کیا۔ کیونکہ کسی بھی معاشرے کی ذہنی نشو نما اسی ادب پر ہوتی ہے جو کہ دستیاب ہوتا ہے۔ چونکہ ان تحریروں کے علاوہ کوئی اور تحریریں نہیں تھیں اس لیے ہمارے معاشرے میں تاریخ کا ایک خاص قسم کا نکتہٴ نظر پیدا ہو گیا اور وہ ذہن میں اس قدر راسخ ہو گیا کہ اسے دور کرنا یا اسکی اصلاح کرنا ایک مشکل کام ہو گیا ہے۔
مثلا برصغیر کی تاریخ لکھتے ہوئے ہمارے مؤرخ حالات و واقعات کو صرف اپنے نکتہٴ نظر سے دیکھتے ہیں۔ اور لامحالہ طور پر اس طرح سے نکتہٴ نظر میں تنگی آ جاتی ہے۔ اور اپنی غلطیوں اور برائیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے ان کے صحیح ہونے کا جواز تلاش کیا جاتا ہے۔ وہ اس بات کو قطعی طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ہندوستان کے ایک ایسے معاشرے میں کہ جہاں دوسرے مذاہب اور فرقوں کے لوگ بھی تھے، ان کے نکتہٴ نظر کو بھی سمجھنا چاہئیے اور تاریخ کے عمل میں ان کے جذبات کی بھی عکاسی کرنی چاہئیے۔ ہمارے مؤرخ جب مسلمان حکمرانوں یا علماء کے مذہبی تعصب کا دفاع کرتے ہیں تو اس کے جواز میں یکطرفہ طور پر دلائل دئیے جاتے ہیں۔ احمد سرہندی کا رویہ ہندوؤں کے ساتھ بڑا متعصبانہ تھا۔ اس کا جواب پیش کرتے ہوئے شیخ اکرام اپنی کتاب  رودِ کوثر“میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے خطوط میں غیر مسلموں کے بارے میں جس غیض و غضب کا اظہار کیا اور انہیں جا بجا ذلیل کرنے کی تلقین کی تو اسکی وجہ یہ تھی:۔
”اس وقت ہندوؤں میں احیائے مذہب کی تحریک زوروں پر تھی اور اطراف ملک میں اس کے جو مظاہرے ہو رہے تھے ان سے با غیرت مسلمانوں کے دل مجروح تھے۔ حضرت کو ان واقعات کا بڑا قلق تھا اور ان کے دل میں انتقام اور غیض و غضب کی آگ بھڑک اٹھی تھی“ [11]۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دوسرے مذاہب کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنے مذہب کا احیا کریں؟ اس کا دفاع کریں؟ اور کیا یہ حق صرف مسلمانوں کو ہے؟ اس قسم کی دلیل تاریخ میں اکثر دی جاتی ہے کہ محمود غزنوی یا اورنگزیب نے ہندوؤں کے مندروں کو اسلئے مسمار کیا کہ وہ ہندو سازش کا گڑھ تھے۔ کیا اس کا اطلاق ہم اپنے مذہبی مراکز پر بھی کر سکتے ہیں؟ اس ذہنیت کا نتیجہ ہے کہ ہم آج تک ہر مسئلےکو صرف یکطرفہ طور پر دیکھتے ہیں اور دوسرے کے دلائل اور  خیالات  کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں۔  ہندوستان میں رہتے ہوئے مسلمان ”رام راج“کی مذمت کرتا  ہے اور پاکستان میں وہ ”احیائے اسلام “کی پرزور تائید کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف ہمارے شعور کی نا پختگی ظاہر ہوتی ہے بلکہ اسکی وجہ سے ہمارا ذہن بھی  محدود ہو کر رہ گیا ہے اور تعصب اور تنگ نظری ہماری شخصیت میں رچ بس گئی ہے۔
انہی بنیادوں پر پاکستان میں تحریک آزادی کی تشکیل کی گئی ہے۔ اس کی ابتدا شیخ احمد سرہندی اور شاہ ولی الله سے کی جاتی ہے کہ جن کے نظریات کی بنیادوں پر دو قومی نظریے کا جواز دیا جاتا ہے اور ہندوؤں اور مسلمانوں میں فرق کو شدید طور پر قائم رکھنے کا سہرا انہی کے سر بندھتا ہے۔ راسخ العقیدتی کی تعریف کی جاتی ہے اور (اورنگزیب کے بجائے) اکبر کو مسلمانوں کے زوال کا ذمہ دار بتایا جاتا ہے کہ اس نے کیوں ہندوؤں کو حکومت میں شریک کیا ۔ کیونکہ مسلمان کی حکومت میں حکومت کرنے کا حق صرف مسلمان کو ہوتا ہے، دوسرے مذاہب کو نہیں۔ ان خیالات پر جو نصابی  کتب لکھی گئیں ان میں تاریخی واقعات اس طرح توڑ مروڑ کر پیش کئے گئے کہ طالب علم اور قاری گمراہ ہوتا چلا گیا۔ واقعات کا صحیح علم نہ ہونے کی وجہ سے نہ تو وہ ان شخصیتوں کے نظریات سے واقف ہوا اور نہ ہی ان کے اثرات سے، اور نہ ہی   اس تنگ نظری کی وجہ سے ہم کچھ سیکھ  سکے۔ اور موجودہ صورت حال اور اس کے مسائل بھی ہماری پہنچ سے دور رہے ۔اور شاید یہی مقصد پاکستان کی تاریخ نویسی کا ہے۔


ماٴخذ: ڈاکٹر مبارک علی، "المیہ تاریخ"، باب 9،صفحات 82 ۔ 92، فکشن ہاؤس لاہور، (2012).

حوالہ جات :

[1]. ابو الکلام آزاد، ”تذکرہ“، صفحہ 238، لاہور (1981 ء)
[2]. ابو الکلام آزاد، ”تذکرہ“، صفحہ 245، لاہور (1981 ء)
[3]. عبد القادر بدایونی،”منتخب التواریخ“ (اردو ترجمہ )، صفحہ 497، لاہور (1962ء)
[4]. عبد القادر بدایونی،”منتخب التواریخ“ (اردو ترجمہ )، صفحہ 499، لاہور (1962ء)
[5]. عبد القادر بدایونی،”منتخب التواریخ“ (اردو ترجمہ )، صفحہ 497، لاہور (1962ء)
[6]. محمود احمد برکاتی، ”شاہ ولی الله اور ان کا خاندان“، لاہور ( 1976ء)
[7]. محمد میاں،”علمائے ہند کا شاندار ماضی“، جلد دوم، صفحہ 7،8، دہلی (1957ء)
[8]. محمد میاں،”علمائے ہند کا شاندار ماضی“، جلد دوم، صفحہ  40، دہلی (1957ء)
[9]. اشتیاق حسین قریشی،”برِعظیم پاک و ہند کی ملتِ اسلامیہ“، صفحہ 251، 252، کراچی (1967ء)
[10]. اشتیاق حسین قریشی،”برِعظیم پاک و ہند کی ملتِ اسلامیہ“، صفحہ 253، 254، کراچی (1967ء)
[11]. شیخ محمد اکرام،”رودِ کوثر“، صفحہ 319، لاہور (1967ء)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں