ایران کی فقہ شاہی، اسلامی نظام اور برصغیر کے شیعہ


لکھاری: حمزہ ابراہیم

ایران میں پچھلے چالیس سال سے جعفری  فقہاء کی بادشاہت قائم ہے۔ یہ نظام قائم کرنے والے آیت اللہ خمینی مدرسے میں فلسفہ پڑھاتے رہے تھے۔ شیعوں کے ہاں فلسفے کی تعلیم کی روایت بہت پرانی ہے۔عباسی دور میں جب وسطی ایشیا فتح ہوا تو مسلمانوں نے چین میں ایجاد کردہ کاغذ سازی کا فن سیکھا اور یونانی اور ہندوستانی علوم کے عربی تراجم شائع ہونے لگے۔  علم کے بانیوں ارسطو، افلاطون وغیرہ کی عباسی دور میں ترجمہ ہونے والی کتابوں سے  فلسفہ و منطق  و طب   مستعار لے کر بوعلی سینا اور ملا صدرا اور شیخ اشراق وغیرہ نے شیعیت  میں فلسفے کی روایت کو مستحکم کیا۔ جب امام غزالی نے فلسفے اور ریاضی کو کفر کہا تو بقول احمد جاوید، فلسفے کو شیعیت میں پناہ لینا پڑی۔ شیعوں کے نظام اجتہاد پر بھی یونانی عقلی علوم کی گہری چھاپ ہے۔ آجکل تو خیر سے پاکستانی شیعوں کو مولانا جواد نقوی کی شکل میں ایک عدد اپنا غزالی مل چکا ہے جو عقلی علوم کی جدید درسگاہوں (Universities) اور عورتوں کی تعلیم کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈے کرتا رہتا ہے۔ آمدم بر سر مطلب، انیسویں صدی کے شیعہ عالم ملا نراقی نے سب سے پہلے افلاطون کے ”فلسفہ شاہی“(ولایت فیلسوف Philosopher  King) کے نظریے کے تناظر میں ”فقہ شاہی“(ولایت فقیہ) کا نظریہ پیش کیا۔ ملا نراقی بھی شیعہ مدارس میں قدیم فلسفے کے استاد تھے۔ اس نظریئے کو بیسویں صدی میں آیت اللہ خمینی کی طرف سے باقاعدہ فقہی احکام کی شکل میں پیش کیا گیا۔ چونکہ ملا نراقی کے برعکس آیت اللہ خمینی فلسفے کے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ فقہ جعفری کے ماہر مرجع تقلید بھی تھے  یوں انہیں عوام میں مذہبی تقدس حاصل تھا۔ بیسویں صدی میں جدید علوم عام ہونے کی وجہ سے عوام میں لکھنے پڑھنے والا ایک روشن خیال طبقہ بھی ظاہر ہوچکا تھا جو سیاسی اصلاحات چاہتا تھا۔ لہذا آیت اللہ خمینی اس بادشاہت کو قائم کرنے میں کامیاب رہے۔ بیسویں صدی میں قاچار سلطنت کو گرا کر پہلوی سلطنت قائم کی گئی تھی، آیت اللہ خمینی نے اس کو گرا کر فقیہ سلطان کی حکومت قائم کی۔ آیت اللہ خمینی اگرچہ سادہ زندگی بسر کرتے تھے لیکن  حکومت صرف سادہ زیستی کا نام نہیں ہوتی، پالیسی سازی زیادہ اہم ہوتی ہے، سادہ تو کمبوڈیا کا پسماندہ ذہنیت والا انقلابی رہنما  پول پاٹ بھی بہت تھا  ۔ ان کی وفات کے بعد آیت اللہ خامنہ ای سلطان مقرر ہوئے جنہوں نے فقہ شاہی کو باقاعدہ ایک بیوروکریسی کی شکل دے دی۔

یہاں ایران کے حوالے سے ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے۔ ہمارے ہاں اکثر علما حکومت کے حصول کیلئے جب عوام کو استعمال کرنا چاہتے ہیں تو یہ اعلان کرتے ہیں کہ اسلام خطرے میں ہے اور ان کے پاس ایک عدداسلامی نظام ہے جو عوام کے تمام مسائل کو حل کر دے گا حالانکہ پچھلے تین سو سال میں انسان کے جتنے مسائل حل ہوئے ہیں اس میں ان حضرات کا حصہ صفر ہے۔ اسلامی کتب میں موجودہ پیچیدہ زمانے کیلئے نظام مملکت نامی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی۔ ملک چلانے والی کوئی چیز نہیں، صرف اخلاقی نصائح اور ڈھیر سارے فرضی مسائل کے فقہی احکام ہیں۔ اخلاقی نصائح کا تعلق انسان کے باطن سے ہے۔ باطن کو سمجھنے کے سلسلے میں بھی نفسیات کی سائنس کے محققین کی خدمات علمائے اسلام سے زیادہ ہیں۔ نظام حکومت کا تعلق انسان کی بیرونی زندگی سے ہوتا ہے۔ اخلاقی نصائح کو نظام نہیں کہا جا سکتا۔ فقہی مسائل کی کتابیں بھی عبادت کے احکام سے بھری ہیں۔ نظام کس چیز کا نام ہے یہ جاننے کیلئے ان  یونیورسٹیوں میں پڑھائے جانے والے کورسز کو دیکھنا ہو گا جن سے فارغ التحصیل ہونے والے لوگ جدید نظام کو چلاتے ہیں۔ اسلامی نظام کی ڈگڈگی صرف نوجوانوں کو اپنے مفاد کیلئے استعمال کرنے کیلئے بجائی جاتی ہے۔ ہزاروں لڑکے لڑکیاں داعش نے اسی جھانسے میں استعمال کیں، اقتدار ملا تو کافروں اور دوسرے فرقوں کے قتل عام کے سوا ان کے پاس کچھ نہ تھا۔ افغانستان میں طالبان کے پانچ سالہ دور حکومت میں حالات اتنے خراب تھے کہ پاکستان میں موجود لاکھوں افغان مہاجرین نے واپس جانے میں کوئی کشش محسوس نہ کی۔ ایران میں انقلاب سے پہلے آیت اللہ خمینی کہتے تھے ہم اسلامی نظام لائیں گے، انقلاب کے بعد یہ کہنا شروع کیا کہ ہم یونیورسٹیوں کو اسلامی بنائیں گے۔ یعنی الگ سے کوئی معاشی  و سماجی نظام لانے کی باتیں چھوڑ کر اسی نظام کو مسلمان کر دیا۔ سود کا نام جرمانہ قرار پایا، وغیرہ ۔ اصول کافی اور بخاری شریف کے بجائے مغربی مفکرین کے بنائے ہوئے ذہنی سرمائے پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھ دیا۔
مسئلہ یہ تھا کہ آیت اللہ خمینی، مولانا مودودی اور سید قطب کی شروع کردہ اسلامی نظام والی تحریک میں شامل تو  ہوگئے تھے  مگر یہ حکومت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تو پتہ چلا کہ ملک کیسے چلتے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ طالبان کی طرح تباہی پھیرنےکے بجائے جدید نظام کو اپنا لیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ فلسفے کے استاد رہے تھے اور ان کیلئے مغرب میں پیدا ہونے والے عقلی علوم کو قبول کرنا آسان تھا۔ایران کا معاشی نظام سارے کا سارا سودی ہے۔ کورس کی سب کتابیں مغربی  کتب سے  ترجمہ شدہ ہیں۔ ریاضی میں دو ایرانی فیلڈ میڈل لے چکے ہیں۔ سائنس و ٹیکنالوجی و معیشت و شماریات، سبھی میدانوں میں جدید عقلی و مغربی علوم رائج ہیں ۔ اگرچہ اسلامی کتب میں عورت کو یہ کہا گیا تھا کہ وہ نہ کسی غیر محرم مرد کو دیکھے نہ کوئی غیر محرم مرد اس کو دیکھے، لیکن آیت اللہ خمینی  نے لڑکیوں کے یونیورسٹی جاکر لڑکوں کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے پر پابندی نہ لگائی۔ ان کو ووٹ دینے، کھیل کے میدانوں میں جا کر کھیلنے(لھو و لعب)،  ملازمتیں اور کاروبار کرنے کے حق سے بھی محروم نہ کیا۔ایران میں شعر ، فلم ، موسیقی ، نقاشی ، مجسمہ سازی وغیرہ بھی باقی رہے۔ پرسپولیس کے آثار قدیمہ بت شکنی کے فتوے سے بچے رہے۔ چور کا ہاتھ کاٹ کر ساری عمر کیلئے معذور کرنے، زانی کو سنگسار کرنے اور جنگوں میں غیر مسلم  قیدیوں کو غلام اور انکی عورتوں کو لونڈیاں بنانے جیسے قدیم فقہی  قوانین کوشرعی حیلے استعمال کر کے ختم کیا۔  یہ سب انکی فکر پر قدیم مغربی منطق اور فلسفے کے اثرات کے باعث ممکن ہوا۔ انکی جگہ کوئی اور مرجع تقلید  مسند اقتدار پر بیٹھتا تو ایران کی حالت پاکستان اور افغانستان جیسے معاشروں سے بھی بدتر ہو جاتی۔ لیکن بہر حال یہ روشن فکر  پہلوی بادشاہت  سے بد تر  ایک بادشاہت ہے کہ جس میں انسانی آزادیوں پر پہلے سے زیادہ قدغن عائد ہے۔ طب اسلامی کے نام پر حکیم کشتے بیچتے ہیں۔ سنیوں کو تو مکمل آزادی حاصل ہے مگر بہائیوں اور مسیحیوں کو برابر کے شہری کا درجہ حاصل نہیں۔ خوشامد کرنے والوں کو اسکا اجر ملتا ہے چاہے وہ رائفی پور اور حسن عباسی  کی طرح مضحکہ خیز ہی کیوں نہ ہوں۔

پاکستان میں مولانا مودودی خود تو کامیاب نہ ہوئے مگر انکا مخلص قاری مرید جنرل ضیاالحق  اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس نے خلوص دل سے اسلامی نظام لانا چاہا تو معلوم ہوا کہ اسلامی نظام صرف تقریروں اور نعروں میں ہے، عملی طور پر کوئی شے نہیں ہے۔ اس نے بھی ملک کو تباہ کرنے کے بجائے موجودہ جدید نظام کو ہی ختنہ کر کے چلایا۔معروف صحافی ضیا شاہد نے اپنی کتاب ”باتیں سیاستدانوں کی“ میں اس سلسلے میں ہونے والی ملاقاتوں کا احوال لکھا ہے۔  اگرآپ اسلامی نظام کے عنوان سے لکھا گیا ادب پڑھنے سے پہلے  جدید نظام کو پڑھیں پھر آپ دیکھیں گے کہ دینی کتب میں اسکا نعم البدل وجود ہی نہیں رکھتا ۔ جدید نظام شماریات کی سائنس اور ریاضی کی ٹھوس عقلی بنیادوں پر قائم ہے جبکہ اسلام کا ذہنی سرمایہ ایک ہزار سال پرانا اور ریاضی سے بالکل پاک ہے۔ اسلامی نظام کے عنوان سے جدید دور کے مسائل کے حل کا خواب بیچنے والے علماء کی مثال اس نالائق بیٹے جیسی ہے جو ماضی میں کسی امتحان میں کامیاب نہ ہو سکا ہو اور اب جب اسکے ہم عمر لڑکے علمی مدارج طے کر کے کہیں آگے پہنچ چکے ہوں تو بھی وہ گولڈ میڈل لینے کا وعدہ کر کے اپنی ماں سے چندہ وصول کر رہا ہو۔

برصغیر کے شیعوں میں اسلامی انقلابی طبقے سے تعلق رکھنے والے خیالی اسلامی نظام کے حامی لوگ ایران کے بادشاہ  کی تصویریں اٹھائے پھرتے ہیں۔  خیالی اسلامی نظام سے متاثر شیعہ اپنے گھروں اور بازاروں میں انکے عکس اور اقوال زریں چسپاں کرتے ہیں۔ یہاں مذہب کے نام پر  انکا پریشر گروپ بنے ہوئے ہیں۔سادہ لوح جوانوں کو جدید علوم سے بدظن کر کے علمائے کرام کا منشی بنا دیا جاتا ہے۔  ایرانی چندے پر پلنے والے علماء نے ایرانی سلطنت کو شیعہ عقائد کا حصہ بنا دیا ہے۔ جب بادشاہ ایران حکم کریں امریکی سفارت خانے پر مظاہرہ داغتے ہیں، بش کی گاڑی کے سامنے امریکی پرچم جلاتے ہیں۔ ہر سال یوم القدس مناتے ہیں۔ سیکولر ازم کے خلاف مہم کا حصہ بنتے ہیں حالانکہ ان کی اپنی بقا صرف سیکولر ازم میں ہے۔ وہی سیکولرازم جو شام میں حلال ہے اور اسکی حمایت میں اخوان المسلمون سے لڑنا جہاد ہے، پاکستان میں حرام ہو جاتا ہے۔  ماں باپ سے زیادہ خامنہ ای صاحب کو احترام دیتے ہیں۔ جوانی اہم ترین سرمایہ ہوتا ہے لیکن برصغیر کے شیعوں کے جوان بچے ان بے رحم انقلابی مگر مچھوں کے نشانے پر ہیں۔ کسی اور بادشاہ کی تصویریں برصغیر میں اسطرح عام نہیں۔ بادشاہ سلامت اور ان کے عرب حواری پاکستانی شیعوں کے ستر سال سے جاری  مسلسل قتل عام کے خلاف کچھ نہیں بولتے۔ کبھی تہران، بغداد، بیروت، صنعا وغیرہ میں پاکستانی یا بھارتی سفارت خانے پر کوئی مظاہرہ ہوا؟ کیا پاکستانی یا کشمیری  شیعہ مظلوم نہیں؟ یا وہ کسی اور اسلام کو مانتے ہیں؟ ایک اہم معمہ ہے کہ ایران کے رہبر   برصغیر  کےشیعوں کیلئے کیوں نہیں بولتے؟ کبھی کبھی دس سال میں ایک بار کشمیریوں کیلئے  پھر بھی دو حرف فرما دیتے ہیں لیکن پاکستانی شیعوں کی  آہستہ رو نسل کشی   اور انکی تاریخ کے مسخ ہونے  اور اذہان کے قتل پر بالکل خاموش ہیں۔
ابھی کچھ دن پہلے  کشمیر میں جو ہوا ہے یہ فلسطین میں ہوتا تو آپ بادشاہ ایران سے لیکر نصراللہ تک کی سرگرمیاں دیکھتے۔ کچھ ہی ماہ پہلے یروشلم کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کا درالخلافہ مانا، تہران سے بیروت تک مظاہرے ہوئے۔  ابھی کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینے کا اقدام بھی ایسا ہی ہے(لداخ کی تو باون فیصد آبادی بھی شیعہ ہے)۔ لیکن پاکستانی شیعہ ہو یا کشمیری، اس سے ایرانی انقلابیت کو بو آتی ہے۔ کچھ دن پہلے ایران میں مقیم چند کشمیری طلبہ نے وہاں ہندوستانی سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کیا ہے لیکن وہاں ایرانیوں کی شرکت نہایت کم تھی۔ ابھی چھ اگست کو کوئٹہ میں مشن روڈ پر ہزارہ پر انکے عقیدے کی وجہ سے بم دھماکہ کیا گیا ہے۔ پچھلے پانچ سال میں اتنے فلسطینی لاپتہ نہیں ہوئے جتنے پاکستانی شیعہ ہوئے ہیں۔  لیکن  برصغیر کے شیعہ  ایرانیوں کو کمتر  انسان لگتے ہیں۔ شلوار قمیض پہنے پھرتے ہیں۔ غریب میلے کچیلے بدبودار لگتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ایرانی پاکستانی  اور کشمیری مظلوموں کو کمی کمین سمجھتے ہیں۔
آخر میں  برصغیر کے شیعوں کو یاد دلانا چاہوں گا کہ حضرت علی کا قول ہے کہ:-
وقال (عليه السلام): مَنْ قَضَى حَقَّ مَنْ لاَ يَقْضِي حَقَّهُ فَقَدْ عَبَدَهُ.
جو ایسے کا حق ادا کرے کہ جو اس کا حق ادا نہ کرتا ہو، تو وہ اس کی غلامی کرتا ہے۔
(نہج البلاغہ، کلمات قصار، 416)
جو لوگ ستر سال سے مسلسل جاری شیعہ کشی کے خلاف ایک مظاہرہ بھی نہیں کر سکے، ان ایرانیوں، لبنانیوں، عراقیوں، یمنیوں اور فلسطینیوں کے لئے مظاہرے کرنا چھوڑ دو۔ تمہاری اوقات انکے نزدیک زکزاکی اور باقر النمر جتنی بھی نہیں!!
کچھ لوگ سٹاک ہوم سنڈروم میں مبتلا ہوکر تاویلیں پیش کریں گے۔ بھائیو، یہ تاویلیں باقر النمر اور زکزاکی کے معاملے پر کہاں جاتی ہیں؟ کچھ کہیں گے کہ تم ہمیں مظلوموں کی  حمایت سے روک رہے ہو۔ یہ بھی غلط الزام ہے، میں صرف حقوق کے دو جانبہ ہونے کے مسئلے کی وضاحت کر رہا ہوں ۔ دیسی مظلوم کا عرب یا ایرانی یا کسی اور مظلوم پر اتنا ہی حق ہے جتنا ان کا آپ پر۔ انکی حمایت کریں، عبادت نہیں۔ شریعت کا حکم ہے کہ  جب تک وہ آپکے حقوق ادا کرنا شروع نہیں کرتے، آپ انکا ”بستر“ الگ کر دیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں