احمد شاہ ابدالی: حملہ آور یا ہیرو

لکھاری: ڈاکٹر مبارک علی 
تاریخی شعور کی کمی کے باعث ہمارے ہاں اب تک حملہ آور اور ہیرو کے درمیان فرق نہیں کیا جا سکا ہے۔ تاریخ کے عمل کو دلیل اور عقل کے بجائے جب جذبات کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں واقعات تعصبات کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ اس کی ایک مثال احمد شاہ ابدالی ہے، اس کے بارے میں ہمارے ہاں دو نکتہ ہائےنظر ہیں۔ ایک میں اسے حملہ آ ور کہاں جاتا ہے کہ جس نے برصغیر ہندوستان پر حملے کر کے یہاں  لوٹ مار کی ۔جبکہ افغانوں میں اسے ہیرو کا درجہ دیا جاتا ہے کیوں کہ یہ اسے افغان یا پشتوں نکتہ نظر سے پرکھتے ہیں اور اسے جدید افغانستان کا بانی قرار دیتے ہوئے ایک عظیم شخصیت گردانتے ہیں۔ یہ لوگ اسے عزت و احترام کے ساتھ "بابا" کے نام سے یاد کرتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں کہ اس نے ہندوستان کو فتح کر کے یہاں مسلمان، سکھ اور مرہٹہ حکمرانوں کو شکستیں دیں۔ جو لوگ اس کے کردار اور کارناموں کو مذہبی نکتہ نظر سے دیکھتے ہیں ، وہ اسکی پانی پت کی جنگ کو جو 1761ءمیں ہوئی ، اہم قرار دیتے ہیں کہ جس میں اس نے مرہٹوں کو شکست فاش دی اور ہندوستان کے مسلمانوں کو ان کٹ تسلط سے آزاد کرایا۔ لیکن یہ لوگ اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ اس نے مغل بادشاہ کو شکست دے کر دہلی کو لوٹا اور مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ لیکن جو لوگ اس کو تاریخ کے نکتہ نظر سے دیکھتے ہیں ان کے نزدیک وہ ایک حملہ اور تھا جس نے ہندوستان پر اس لیے حملہ کیا کہ یہاں لوٹ مار کر سکے۔ اس کی لوٹ مار اور قتل و غارت گری کا اثر ہندوستان کی سیاست، معیشت اور سماجی حالات پر بڑا گہرا ہوا۔ اس سے نہ صرف حکمران طبقے متاثر ہوئے بلکہ عام لوگ بھی اسکی زد میں آ ئے  اور اذیت وتکلیف کے عمل سے گزرے۔

اس مرحلہ پر ہمیں یہ تجزیہ کر لینا چاہئیے کہ جب بھی  غیر ملکی حملہ آور کسی ملک پر حملہ کرتے ہیں ، اس پر قبضہ کرتے ہیں، تو اس کے نتیجے میں نہ صرف اس ملک کا سیاسی، سماجی اور معاشی نظام ٹوٹتا ہے اور معاشرہ بے چینی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے، بلکہ اس کے ذرائع کو یہ حملہ آور غصب کے لیتے ہیں اور ملک کو مفلس اورر کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ اب اگر ہم اپنے مسلمان حملہ آوروں کو ان کے جنگی جرائم اور لوٹ مار پر معاف کر دیں، ان کے قتل عام کو نظر انداز کر دیں، تو اس صورت میں ہم کبھی بھی حقیقی تاریخی شعور پیدا نہیں کر سکیں گے اور تاریخ سے کوئی سبق سیکھنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ جہاں تک حملہ آوروں کا تعلق ہے، اس میں ہمیں اس فرق کو قائم نہیں رکھنا چاہئیے کہ یہ ہمارے ہیں یا دوسروں کے ہیں۔ کیونکہ حملہ آور چاہے وہ کوئی ہوں، ان کا مذہب، نسل اور زبان کوئی ہو، وہ حملہ آور ہوتے ہیں، لہٰذا انہیں اسی تناظر میں دیکھنا چاہئیے اور تاریخ کے ساتھ انصاف کرنا چاہئیے۔ احمد شاہ ابدالی (1722ء۔1773ء) اس وقت نادر شاہ کے ساتھ ہندوستان آیا جب اس نے 1739ء میں حملہ کیا تھا اور دہلی کو اس بری طرح لوٹا تھا کہ اسکی داستانیں آج تک لوگوں میں گردش کرتی ہیں۔ لہٰذا جب نادر شاہ کے قتل کے بعد یہ بادشاہ بنا تو اس نے بھی اپنے سرپرست کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہندوستان پر مسلسل حملے کئے۔ ان حملوں کا مقصد سوائے اسکے اور کچھ نہیں تھا کہ جو کچھ نادر شاہ کی لوٹ سے بکچھ گیا ہے اسے ہڑپ کر لیا جائے۔ اسکے علاوہ اس کا کوئی اور مقصد نہیں تھا، اس کی کوئی دلچسپی اس میں نہیں تھی کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی مدد کی جائے ، یا ان کا مرہٹوں اور سکھوں سے دفاع کیا جائے۔ یہ باتیں اس کے حامیوں نے بعد میں اس سے منسوب کی ہیں۔
اس مختصر سے مضمون میں میں اس کی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی مہمات کا ذکر نہیں کروں گا بلکہ صرف شمالی ہندوستان پے اس کے حملوں اور 1757ءاور 1761ءمیں دہلی پر اسکے قبضے کے بارے میں لکھوں گا۔
یہ وہ زمانہ تھا کہ جب مغل بادشاہ کی فوجی قوت و طاقت ختم ہو چکی تھی اور وہ اس قابل نہیں تھا کہ اپنے دار السلطنت کا دفاع کرے۔ جب ابدالی نے شمالی ہندوستان پر پہلا حملہ کیا تو اس کے ظلم کا شکار متھرا کے شہری ہوئے۔ مورخوں نے اس حملہ کی تفصیل لکھتے ہوئے بیان کیا ہے کہ شہر پر قبضہ کرنے کے بعد ابدالی کی فوج نے مکانوں کو مسمار کیا، مندروں میں رکھے ہوئے بتوں کو پاش پاش کیا، لوگوں کا قتل عام کیا اور عورتوں کی عزت لوٹی۔ اسکے بعد اس کا دوسرا حملہ ہندوؤں کے دوسرے مقدس شہر گوکل پر ہوا، اس کے بعد آگرا پر قبضہ کیا۔ آگرا میں اس کے جنرل جہاں خان نے شہریوں کا قتل عام کیا۔ ان میں سے جو خوش قسمت زندہ بچ گئے تھے، ان پر جرمانے عائد کئے گئے۔ اس کے بعد وہ دہلی شہر میں داخل ہوا اور منظم طریقے سے یہاں لوٹ مار کا بازار گرم کیا۔ اسکی تفصیل ایک ہم عصر مورخ نے "تاریخ عالمگیری" میں اس طرح سے بیان کی ہے کہ :۔
"لوگوں سے جرمانہ وصول کرنے کیلئے جگہ جگہ مراکز قائم کئے گئے۔یہ تمام جرمانے  کنڑہ روشن دولہ کے مرکز میں لا کر جمع کرائے    جاتے تھے۔ شہر کے امراء کو خطوط بھیجے گئے کہ وہ مرکز میں آ ئیں  اور ان پر جو جرمانہ عائد کیا جائے وہ ادا کریں۔ ہر گلی اور ہر بازار میں ایک کلاہ پوش متعین کہ جو مکانوں اور دکانوں کی گنتی کرتا اور لوگوں کی حیثیت کے مطابق ان سے پیسے وصول کرتا تھا۔ اگر کوئی جرمانے دینے میں پس و پیش کرتا تو اسکو مارا پیٹا جاتا، یا اذیت دی جاتی۔اس کے نتیجہ میں بہت سے لوگوں نے خودکشی کر لی اور بہت سے لوگ مار پیٹ اور اذیت ست مر گئے۔ دولت کی تلاش کی خاطر سپاہیوں نے مکانوں کو کھود ڈالا یا مسمار کر دیا۔ دولت کی وصولی اس قدر سخت تھی کہ اس سے کسی کو بھی پناہ نہیں ملی"۔
ایک اندازے کے مطابق ابدالی اس لوٹ کے نتیجہ میں ہندوستان سے تقریبا 3 سے 12 کروڑ روپیہ افغانستان لے گیا۔ اس مال غنیمت میں صرف روپیہ ہی شامل نہیں تھا بلکہ ہیرے جواہرات، زیورات اور دوسری قیمتی اشیا بھی شامل تھیں۔ اس نے مغل شہزادیوں کو بھی مال غنیمت سمجھا اور انہیں بھی زبردستی اپنے ساتھ لے گیا۔وہ مغل بادشاہ محمد شاہ کی بیٹی "حضرت محل"سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ اس شادی پر تبصرہ کرتے ہوئے جادو ناتھ سرکار نے اپنی کتاب "فال آف دی مغل امپائر"میں لکھا ہے کہ :۔
"اس معصوم لڑکی پر اسکے دادا کی عمر کا شخص جھپٹ پڑا، جبکہ اس وقت اسکی یہ حالت تھی کہ اسکے دونوں کان اور ناک بیماری سے سڑے ہوئے تھے"۔
اس شادی کے خلاف مغل خاندان کی عورتوں نے بڑی مزاحمت کی، یہاں تک کہا کہ وہ لڑکی کو قتل کر دیں گے مگر شادی نہیں کریں گے۔ اس سے یہ بھی کہا گیا کہ لڑکی کوئی خوبصورت نہیں ہے اور اسکی منگنی ایک رشتہ کے شہزادے سے ہو چکی ہے۔ لیکن یہ تمام حربے غریب شہزادی کو اسکے چنگل سے نہیں بچا سکے اور اس نے شہزادی سے زبردستی شادی کر لی۔ اس پر ہی بس نہیں ہوا بلکہ محمد شاہ بادشاہ کی بیوہ اور احمد شاہ بادشاہ کی ایک لڑکی بھی اسکے ہمراہ افغانستان گئیں۔ ان دو کے علاوہ اور کئی مغل شہزادیاں تھیں جنھیں افغان فوج کے ہمراہ ہندوستان چھوڑنا پڑا۔ ان میں سے ایک وہ مغل شہزادی بھی تھی کہ جس کی شادی نادر شاہ کے لڑکے سے ہوئی تھی۔ جادو ناتھ سرکار نے اپنی کتاب میں ایک مرہٹہ خط کا ذکر کیا ہے کہ جس میں ان بدنصیب شہزادیوں کے بارے میں ذکر ہے اور کہا گیا ہے کہ پٹھانوں نے امراء کی خوبصورت بیویوں کو ہتھیا لیا اور اپنے ساتھ لے گئے۔ اس حملہ میں اس قدر مال غنیمت تھا کہ اس کو لے جانے کیلئے 28 ہزار اونٹ، ہاتھی اور خچروں کا بندوبست کیا گیا۔  افغان فوجیوں کے ہاتھوں دلی کے شہریوں میں جو گزری اس کے بارے میں میر تقی میر لکھتے ہیں کہ:۔
"شہر کو آگ لگا دی۔ گھروں کو جلانا اور لوٹنا شروع کر دیا۔ صبح کو، جو صبح ِقیامت تھی، ساری فوج اور روہیلوں نے مل کر پورے شہر کو تاخت و تاراج کر دیا اور قتل و غارت گری مچا دی۔  گھروں کے دروازے توڑ دئیے، لوگوں کی مشکیں باندھیں۔ کئی ایک کو نذر آتش کر دیا اور کتنوں کے سر قلم کر دئیے۔ ایک عالم کو خون میں  لت پت کر دیا۔ تین دن اور تین رات تک وہ اپنے ظلم سے باز نہ آئے۔ نہ کھانے کو چھوڑا نہ پہننے کو، چھتوں میں شگاف ڈال دئیے اور دیواریں مسمار کر دیں۔ لوگوں کے کلیجے بھون دئیے اور دل جلا ڈالے۔ ۔۔۔شہر کے اکابرین کی عزت خاک میں ملا دی۔۔۔۔ امیر امراء مفلس و نادار بن گئے، رذیل و شریف سب ننگے دھڑنگے ہو گئے۔۔۔۔ بہتوں کی عورتیں اور بچے گرفتار کر لیے گئے۔۔۔۔ قتل عام اور غارت گری کا بازار گرم تھا۔ ۔۔۔نیا شہر خاک کا ڈھیر ہو کر رہ گیا "۔ ( ذکرِ میر،صفحات 46۔145)
شاہ ولی الله(وفات 1762ء)، جنہوں نے بعد میں احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان آنے کی دعوت دی تھی، وہ اس وقت دہلی میں تھے۔ افغانوں کے ظلم و ستم اور انکی لوٹ مار سے بچنے کی خاطر انہوں نے اپنے دوستوں اور ہمدردوں کو کئی خطوط لکھے کہ وہ انہیں ان کے شر سے بچائیں۔ اپنے ایک دوست کو خط میں وہ لکھتے ہیں کہ:۔
" جب درانی بادشاہ دہلی کی طرف پیش قدمی کرتا ہوا آ ئے  تو تم اسکی فوج میں اپنے جاننے والوں اور دوستوں کو لکھ دینا کہ شاہ ولی الله نام کا شخص دہلی میں رہتا ہے۔ اگر اسکی فوج اچانک دہلی پر حملہ کر دے تو انہیں کہو کہ وہ میری رہائش گاہ کی حفاظت کیلئے کچھ فوجیوں کو متعین کر دیں۔ یہ اور زیادہ بہتر ہو گا اگر ان فوجیوں کے ساتھ میرے کسی طالب علم کو مقرر کر دیا جائے تا کہ وہ ان سپاہیوں کو میری تباہی سے روک سکے"۔
ابدالی کے اس پہلے حملے میں اس نے اور اسکی افواج نے دہلی کے شہریوں کے ساتھ جو سلوک کیا، اس کو دیکھنے اور اس کا تجربہ کرنے کے باوجود شاہ ولی اللہ نے خط لکھ کر اس سے دوبارہ ہندوستان آنے اور حملہ کرنے کی دعوت دی۔
پاکستان میں تاریخ کی نصابی کتب لکھنے والے اکثر احمد شاہ ابدالی کی اس لیے تعریف کرتے ہیں اور اسے مجاہد اعظم ٹھہراتے ہیں کیونکہ اس نے پانی پت کی تیسری جنگ (1761ء) میں مرہٹہ کافروں کو شکست فاش  دی تھی۔ لیکن اب مورخوں نے اس بات کی جانب اشارہ کیا ہے کہ پانی پت کی تیسری جنگ کا فائدہ مغلوں کو یا ہندوستان کے مسلمانوں کو نہیں ہوا، بلکہ اس سے ایسٹ انڈیا کمپنی نے فائدہ اٹھایا۔ کیوں کہ جب مرہٹہ طاقت ختم ہو گئی تو ان کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ رہا۔
پانی پت میں فتح یاب ہونے کے بعد احمد شاہ ابدالی دہلی آیا اور دہلی کے لال قلعہ میں ٹھہرا۔ یہاں اس کے ساتھ اس کا پورا حرم تھا۔ اس کا دربار شاہ جہاں کے تعمیر کئے ہوئے دیوان خاص میں ہوتا تھا۔ اس بار بھی اس کی فوج نے شہر اور شہریوں کو نہیں بخشا اور جس قدر لوٹ مار ہو سکتی تھی وہ کی۔ اس دفعہ کے حالات میر تقی میر نے اپنی خود نوشت "ذکرِ میر" میں بیان کئے ہیں:۔
"شہر کی تباہی پر ان کے یہ اثرات ہیں۔ ایک روز سیر کرتے کرتے میں نئے شہر کے کھنڈرات کی طرف جا نکلا۔ ہر ہر قدم پر آنسو ٹپک پڑے اور درس ِعبرت ملنے لگا۔  جیسے  جیسے  آگے بڑھا، حیرانی اور بھی بڑھ گئی۔ مکانوں کی شناخت تک نہ ہو سکی۔ گھر تھے نہ عمارتوں کے آثار تھے اور نہ باشندوں کا پتا تھا۔ ۔۔۔۔ٹوٹے پھوٹے مکان، شکستہ  دیواریں، خانقاہیں صوفیوں سے خالی تھیں اور  میخانوں میں مئے خوار نہ تھے۔۔۔۔۔کیا کہوں کہ وہ بازار کہاں گئے؟ وہ طفلان ِتہہ بازار کیا ہوئے؟ کس سے پوچھوں کہ وہ حسن کیا ہوا؟ وہ یارانِ زاد رخسار کدھر گئے؟۔۔۔۔۔محل برباد ہوئے، گلی کوچوں کا پتہ نہ رہا، انسان ناپید تھے اور ہر طرف وحشت چھائی  ہوئی تھی۔۔۔۔۔ ناگاہ اس محلے میں پہنچا جہاں خود رہا کرتا تھا۔ ۔۔۔۔طبیعت بڑی مکدر ہو گئی۔ لہذا میں نے عہد کیا کہ پھر نہ آؤں گا اور زندگی بھر شہر کا قصد نہ کروں گا"۔ (ذکرِ میر، صفحات 159۔161)
یہ وہ حالات تھے کہ جن میں شمالی ہندوستان کے باسی اور خاص طور پر دہلی شہر کے باشندے متاثر ہوئے۔ اور یہ وہ حملہ تھا کہ جس نے لوٹ مار ، قتل و غارت گری اور عورتوں کی عصمت دری کرنے میں کسی مذہب، رنگ و نسل کا خیال نہ کیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کے باوجود ، ان تاریخی حقائق کی روشنی میں بھی، لوگ اسے مجاہد اور ہیرو کا درجہ دیتے ہیں۔

مآخذ:  ڈاکٹر مبارک علی ، "گمشدہ تاریخ"،  صفحات 101 تا 107 ، فکشن ہاؤس لاہور ، (2005)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں