سوشل میڈیا پر احمدی مخالف مہم: عام آدمی کے جاننے کی باتیں

لکھاری: حمزہ ابراہیم
ٹویٹر اور فیس بک  پر پھر سے قادیانیوں/ احمدیوں  کے خلاف ٹرینڈ چل رہا ہے  ۔  اس مختصر مضمون میں اس معاملے سے جڑی کچھ غلط فہمیوں کا ازالہ اور مستقبل کے راستے تلاش  کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

1.     آغاز کیسے ہوا؟

‏انگریزوں کے قبضے سے پہلے ہندوستان کے مسلمان دو قسم کے تھے: شیعہ اور سنی۔ سنی  فلسفہ اور منطق پر زور دینے والے دارالعلوم فرنگی محل اور صوفیا کے پیرو تھے۔ 1857ء کے بعد اہلسنت میں پانچ  جدید فرقے پیدا ہوئے: بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث، احمدی  اور اہل قرآن؛ پرانا عقلیت پسند دارالعلوم فرنگی محل کامعتدل  مسلک  آہستہ آہستہ فراموش ہو گیا لیکن اہل تصوف باقی رہے۔نئے مدارس کے  نصاب میں سے فلسفے کو نکال دیا گیا اور تاریخ کو صرف احادیث تک محدود کر دیا گیا۔ شیعوں میں مجتہدین پیدا ہونے ختم ہوئے اور خطبا منظر عام پر آئے۔ عزاداری میں نت نئے رواج پیدا ہوئے، غالی مقصر جھگڑے  کا میدان سجا۔ اہلسنت میں محفلِ میلاد پر گھمسان کا رن پڑا، رفع یدین و آمین کہنے  پر نکاح ٹوٹنے لگے۔ یہ گروہ بندی انگریزوں کی سازش نہ تھی، بلکہ انکے قبضے سے پیدا ہونے والی شکست خوردگی  اور غربت کے ملاپ کا فطری  نتیجہ تھی۔مذہب میں پناہ ڈھونڈنے والا معاشرہ مذہبی رہنماوں کیلئے معاشی شکار گاہ تھا، اور شیروں میں شکار گاہوں کی سرحدیں متعین کرنے پر جھگڑے تو ہوتے ہیں۔ہمارے سماج کے اکثر مسائل جن کو ضیاء الحق کے ذمے لگایا جاتا ہے، اس دور کے ”مشاجرات ِاکابر“  کی پیداوار ہیں۔ اکابر کی کھال بچانے کیلئے انہیں ضیاء الحق کے سر منڈھ دیا جاتا ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے زمانے (1857ء-1910ء) میں مذہبی قیادت کا دارومدار عوامی چندے پر تھا۔ راجے مہاراجوں کا دور ختم ہو گیا تھا اور دربار سے مدد معاش کا سلسلہ رک گیا تھا۔ اس وقت مذہبی پیشواؤں  نے ایسے دعوے کئے جن سے عوام میں تقدس حاصل ہوتا اور اسکے نتیجے میں چندہ ملتا تھا۔1857ء میں ہندوستانی معاشرے کو بہت بری طرح مارا گیا تھا۔ کیا مسلمان، کیا ہندو، کیا سکھ، سبھی  حقیقی دنیا میں انگریزوں کے ہاتھوں ہر لحاظ سے شکست کھا کر روحانیت میں پناہ لے رہے تھے۔ ایسے میں خود کو عالم غیب سے جوڑ کر عام انسانوں سے بلند ظاہر کرنے والے کو پیروکار مل جاتے تھے۔ شیعوں اور سنیوں، سب میں من گھڑت معجزے رونما  ہونے لگے ، جن کا عقیدت بھرا  تذکرہ  اب بھی محفلوں میں ہوتا ہے۔ہر طرف کشف و الہام کا شور تھا۔مظلوم  مسلمان عوام  صدیوں سے کسی غیبی مدد، کسی مافوق الفطرت منجی کے ظہور کی امید پر حالات سے سمجھوتا کیا کرتےتھے۔  اب تو یہ مانگ اور بڑھ چکی تھی۔ دیوبند کے مولانا نانوتوی نے خواب دیکھا کہ انکا اور رسول اللہؐ کا جسم  ایک ہو گئے۔  مرزا صاحب نے کہا کہ وہی امام مہدی ہیں۔ انہوں نے آگے بڑھ کر کہا کہ وہ شریعت کے  بغیر نبی ہیں۔ نیز   اگرچہ وہ اسی شریعت کو مانتے ہیں لیکن چودہ صدیاں گزارنے کے بعد انکی اور صاحبِ شریعت کی نسبت یہ ہے کہ رسول اللهؐ  پہلی کے،  یہ  چودہویں کے چاند ہیں۔تاریخ میں مہدویت کے دعوے کئی مرتبہ، بالخصوص سیاسی و معاشی زوال کے دنوں میں، کئے گئے ہیں۔ اموی دور کے اختتام اور عباسی دور کے اوائل میں محمد بن عبدللہ نفس ذکیہ نے مہدی ہونے کا اعلان کیا تھا۔  انھیں خراسان سے کالے جھنڈے والوں کی حمایت بھی حاصل تھی۔  برصغیر میں دہلی سلطنت کے زوال کے دنوں میں جون پور کے سید محمد نے مہدی ہونے کا اعلان کیا تھا۔مرزا صاحب کے برعکس ان کا نام محمد اور  انکا تعلق بھی خاندان رسالت سے تھا۔ مغل دور میں  انکے پیروکاروں کا جنوبی ہندوستان میں کافی اثرورسوخ بھی رہا۔اسکے علاوہ بھی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں۔
‏1857ء کے بعد کے  زمانے میں عیسائی، ملحد، ہندو اور مسلمانوں کے بیچ  مذہبی مناظرے  بھی عام تھے۔ حضرت عیسیٰؑ کی دوبارہ آمد پر کافی بحث ہوتی: ابن مریم مر گیا یا زندہ و جاوید ہے؟آنے والے سے مسیح ناصری مقصود ہے،  یا مجدد، جس میں ہوں فرزند مریم کے صفات؟۔ جیسا کہ سرسید نے قرآن کےروایتی معنی بدل کر جدید دور کے نظریات کو دائرہ ٴاسلام میں داخل کرنے کیلئے متعدد کتب لکھیں،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ عیسیٰؑ وفات پا چکے۔ یہی بات مرزا صاحب نے کی البتہ انہوں نے خود کو عیسیٰؑ کہہ دیا اور مسیحِ موعود قرار پائے۔‏سرسید کا مقصد یہ تھا کہ لوگ فضول مذہبی بحثوں میں وقت تلف کرنے کے بجائے جدید علم حاصل کریں۔ لیکن انکی تفسیر خود ایک نیا فرقہ بن گئی جس کو نیچری اور پھر منکرین حدیث (اہل قران) کہا گیا۔ قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ  (مرزا صاحب کے فرزند بشیر الدین محمود) نے بھی اسی طرز پر قرآن کی تفسیر لکھی۔‏
قادیانی/احمدی مرزا صاحب کو  مہدی، مسیح اور ظلی نبی مانتے ہیں، اور انکے علاوہ یہ دعوی کرنے والے کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔  فقہی معاملات میں وہ فقہ حنفی کی وہابی تشریح کی پیروی کرتے ہیں۔ جس زمانے میں مرزا صاحب تھے اس وقت پیروں اور مولویوں میں یہ عام بات تھی۔ بس وہ اشارے کنائے میں خود کو رسول اللہؐ کا عکس کہتے تھے، انہوں نے کھل کر کہہ دیا۔ 1930ء تک اس بات کو ایشو نہیں بنایا گیا۔‏ہمیں اس بات کو صحیح طرح سے سمجھنا ہے۔ جدید دنیا میں یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ امریکہ میں بھی مورمن ایک ایسا فرقہ ہے جو مسیحیت کے احیا کا دعوی کرنے والے اپنے پیشوا کو آخری نبی  مانتے ہیں۔ کیا انہوں نے بھی ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا؟ یا کیا مورمن ازم امریکا کیلئے کوئی خطرہ بنا؟ ہم اس مثال سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

2. تکفیر اور نفرت  کی معیشت

1900ء کے آس پاس کے  زمانے میں  شیعہ سنی مناظرے اورخوب  ہلڑ بازی ہوتی تھی۔مولانا عبدالشکور بمقابلہ مولانا  مقبول دہلوی مناظرے عام تھے۔ مرزا صاحب اور انکے بیٹے نے بھی دوسرے فرقوں کے خلاف بے دریغ کفر کے فتوے دیئے۔ شیعوں کے بارے میں مرزا صاحب نے کہا کہ وہ اسلام کے دامن میں پڑا پاخانہ ہیں۔  یہ چونکہ حنفی وہابی پس منظر سے تھے، اسلئے عزاداری کو شرک سے نسبت دی۔ عزاداری کے خلاف سید احمد بریلوی کی جہاد تحریک کے زمانے سے ایک مہم چلی آ رہی تھی۔ ان سے قبل یہ مشترکہ شیعہ سنی ثقافت کا حصہ تھی لیکن  ان کے بعد سے یہ  برصغیر کی وہابیت کے نشانے پر تھی۔  وہابی سوچ انسان کی اجتماعی سرگرمی کے خلاف ہے۔ وہ اسکو تنہا کردیتی ہے۔ بس نماز روزہ جیسے انفرادی اعمال تک زندگی کو محدود کر تی ہے۔ زیادہ ہو گیا تو جلسہ کر لیا ،مگر اس میں بھی شرکا کا حصہ ہمہ تن گوش ہو کر مذہبی پیشوا کی تقریر سننا ہوتا ہے۔
منکرین حدیث کا بھی شیعوں کے بارے میں ایسا ہی خیال تھا۔  خود کو زیادہ پکا سنی ظاہر کرنے کیلئے شیعوں کو بڑھ چڑھ کر برا کہنا  جدید فرقوں  کی ضرورت تھی۔‏ امام احمد رضا خان  بریلوی بھی تکفیر کی دکان کھولے ہوۓ تھے۔ اس سلسلے کو باقاعدہ تصادم کی شکل 1930ء کی دہائی میں ملی۔‏1930ء میں مجلس احرار کے نام سے ایک دیوبندی جماعت بنی۔ یہ سپاہ صحابہ فیکٹر  کا آغاز تھا۔ یہ جماعت تحریک خلافت اور افغانستان کی طرف ہجرت کی ناکامی کے بعد بنی۔ چونکہ عوام علما کی حماقت سے تنگ تھے اور مسلم لیگ میں جا رہے تھے تو علماء نے چندہ جاری رکھنے کیلئے فرقہ وارانہ فسادات کئے۔‏اس جماعت نے عوام سے چندہ لینے کیلئے قادیانیوں کو اسلام کیلئے خطرہ بتایا،  شیعوں اور بریلویوں پر حملے کئے۔1930ء کی دہائی سے شیعہ کشی کا عمل شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔ اس کا بانی ضیا ءالحق نہیں، مولانا حسین احمد مدنی ہیں۔ اس سلسلے میں معروف تاریخ دان وینکٹ دھلی پالا  کا مقالہ (Rallying the Qaum: The Muslim League in the United Provinces, 1937–1939) کافی چشم کشا ہے۔
تحریک پاکستان کے آخری سالوں میں عوام مذہبی جماعتوں سے دور ہو گئے تھے۔  لہذا پاکستان بننے کے بعد جوں ہی تحریک  آزادی کی دھول بیٹھی اور قائد اعظم کا انتقال ہوا،  پاکستان میں  احمدی مخالف فسادات ہوئے۔ دوسری طرف  شیعہ کشی کا عمل بھی تنظیم اہلسنت نامی جماعت کے ڈھانچے سے  آہستہ آہستہ دوبارہ شروع ہو گیا۔  جو آج تک جاری ہے اور جس میں وقفہ صرف اسی وقت آیا جب سوشلزم کی لہر نے عوام کو علماء سے دور کیا۔
‏1974ء میں ربوہ میں ٹرین سٹیشن پر ایک جھگڑا ہوا۔ سنی لڑکوں نے احمدی لڑکیوں کے بارے میں گھٹیا زبان استعمال کی تو احمدیوں نے ان پر تشدد کیا۔ دونوں طرف سے بیوقوفی تھی۔ شیعوں، ہندوؤں، مسیحیوں وغیرہ  کو بھی  طوائف وغیرہ کہا جاتا ہے لیکن اس کا جواب تشدد نہیں۔شیعہ یا پنجابی طوائف کا مسلک یا قومیت نمایاں کی جاتی ہے لیکن سنی یا پختون طوائف کا مسلک یا قومیت چھپا دی جاتی ہے۔ سچ یہ ہے  ہر اچھے برے  شعبے میں آبادی کے تناسب کے اعتبار سے ہر مسلک و قومیت کے افراد کی نمائندگی پائی جاتی ہے۔ہمارے جیسے   فسطائی  معاشروں میں   کمزوروں  کی عورتوں کی توہین عام ہوتی ہے۔ خیر اس کی وجہ سے دوسرے احمدی  مخالف  فسادات شروع  ہوئے۔مسئلہ قومی اسمبلی میں چلا گیا۔ ‏قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ  زیر بحث آیا  تو قادیانیوں کی نمائندگی انکی مذہبی قیادت نے کی جسے عام قادیانیوں سے زیادہ اپنے مفاد عزیز تھے۔ (یہ ایسا ہی ہے جیسے شیعہ علماءمولانا فضل الرحمان کے ساتھ بیٹھ کر اپنے لئے عہدے حاصل کرتے ہیں مگر شیعہ عوام کے انسانی حقوق کا خیال نہیں رکھا جاتا۔  مذہبی پیشوائیت کے مفادات کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ یہ عوام کی سیاسی نمائندگی کا حق ادا نہیں کر سکتی۔) قومی اسمبلی  میں  مذہبی جرح کے دوران مرزا ناصر احمد شیعوں  کے  عقائد بھی زیر بحث لائے اور انکو کفر کے نزدیک تر بتایا۔  جس کے جواب میں ایک شیعہ ایم این اے سید عباس حسین گردیزی نے دس صفحات پر مشتمل شیعہ موقف پیش کیا۔ شیعوں نے قادیانی تکفیریت اور دیوبندی تکفیریت میں سے دیوبندی تکفیریت کا ساتھ دیا۔قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کے دونوں فرقوں (احمدی اور لاہوری)   کو کافر قرار دے دیا۔
ریاست نے کسی گروہ کے خلاف مذہب کی تلوار پہلی دفعہ نہیں چلائی تھی۔ اس سے پہلے یہ تلوار قائد اعظم کی وفات کے بعد قرارداد مقاصد کی شکل میں ہندوؤں، مسیحیوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف چل چکی تھی۔ ستم ظریفی یہ کہ اس وقت احمدیوں نے اس عمل کی حمایت کی تھی۔ قرار داد مقاصد کے بعد ہندوؤں کے خلاف غیر اعلانیہ طور پر امتیازی سلوک روا رکھا جانے لگا تھا۔  قائداعظم کےدلت  وزیرقانون جوگندر ناتھ منڈل  (امبیڈکر کے ساتھی) احتجاج کے طور پر مستعفی ہو گئے تھے۔ انکا استعفی پڑھنے لائق ہے۔ اس کا حال ہی میں عامر حسینی نے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ہندوؤں کے ساتھ امتیازی سلوک قائداعظم کی وفات کے بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔

3. معاملہ محض مذہبی ہے یا انسانی؟

‏قومی اسمبلی نے مذہبی بحث کے بعد انکو کافر قرار دیا۔ قومی اسمبلی نے مسئلے کو انسانی حقوق اور سیکولر اقدار کی روشنی میں نہیں دیکھا۔ نہ ہی احمدیوں میں سے کوئی سیکولر قیادت سامنے آئی جو جدید دور کے سماجی علوم کے مطابق بحث کرتی۔ یہ مسئلہ مذہبی کم اور انسانی زیادہ تھا۔‏اب ریاست نے انکو کافر کہا تو بات یہاں ختم نہ ہوئی۔ ضیا الحق کے زمانے میں مولانا سمیع الحق اور مفتی تقی عثمانی وغیرہ نے ایسے قوانین بنائے کہ  ان سے نماز پڑھنے، قرآن پڑھنے، غرض مسلمانوں والا کوئی کام کرنے کا حق چھن گیا۔ دیوبندی علما تو ان پر زندیق کا حکم لگا کر عام پھانسیاں دلواتے لیکن ضیاءالحق اتنا  بے رحم نہیں تھا۔ اب انکی شخصی زندگی میں خلیفہ کے ساتھ ساتھ تھانیدار بھی مداخلت کرنے لگا۔ اس طرح جب احمدیوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا، ان کی زندگی اجیرن بنائی گئی، تو بے بسی کے عالم میں اپنے دل کو بہلانے کیلئے مذہب کی طرف رجوع کیا۔
اب بھی  احمدی مذہبی میڈیا انسانی حقوق کے سیکولر عنوان سے بحث کرنے کے بجائے ہمیشہ مذہبی بحث کرتا ہے جس میں اپنے حق پر ہونے اور دوسروں کے باطل ہونے پر زور ہوتا ہے۔ یہ لوگ سب سے اپنے اپنے فرقے کے علما ءکی مذمت کا مطالبہ کرتے ہیں اور انکو بدترین مخلوق قرار دیتے ہیں، لیکن خود مرزا صاحب یا انکے فرزند کی تکفیریت کی مذمت نہیں کرتے۔ الٹا اپنی تکفیریت کی وکالت کرتے ہیں۔ سیدھی سی بات ہے، مذہبی اسٹیبلشمنٹ  کو پیروکاروں کے انسانی حقوق سے زیادہ انکے حق پر ہونے کی فکر ہوتی ہے۔ کیونکہ حق اور ابدی کامیابی کا احساس ہی پیروکاروں  کی جیب سے دنیاوی دولت نکلوا سکتا ہے۔ انہیں اس بات سے غرض ہے کہ قومی اسمبلی کے اراکین نے ان کو کافر کیوں سمجھا ، نہ کہ اس بات سے کہ انہوں نے ریاست کو ان سے کافروں والا برتاؤ کرنے کا اختیار کیوں دیاجس سے ان کے پیروکاروں کے بعض  انسانی حقوق معطل ہو گئے۔ سیکولر ریاست تو احمدی پیشوائیت کو بھی پسند نہیں۔
جب کوئی گروہ مادی لحاظ سے شکست سے دوچار ہوتا ہے تو وہ اپنی مذہبی پیشوائیت کے اور زیادہ قریب ہوجاتا ہے۔مذہب سے وابستگی عقل و فکر کا  معاملہ نہیں، مزاحمت کا استعارہ بن جاتی ہے۔ اس طرح ان کا دہرا استحصال ہوتا ہے: انکی مذہبی اسٹیبلشمنٹ بھی  ان کی کمزوری و لا وارث ہونے  سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ اسکی مثال مغربی ممالک میں ہجرت کر کے جانے والے پاکستانیوں کی ہے۔ جوں جوں وہ اسلامو فوبیا کا شکار ہوتے ہیں یا خود کو معاشرے میں اجنبی محسوس کرتے ہیں، توں توں وہ مذہبی تر ہوتے جاتے ہیں۔ ترقی یافتہ معاشرے میں رہتے ہوئے بھی حلالہ سنٹر آباد ہوتے جارہے ہیں، جن نکالنے والے بابوں کا کام چل پڑا ہے اور نوجوان لڑکیاں اکیلے سفر کر کے حلقہ بگوش داعش ہوئی ہیں۔ مدارس کو اتنا چندہ پاکستان سے نہیں ملتا جتنا بیرون ملک مقیم پاکستانی بھیجتے ہیں۔  یہی معاملہ  پاکستان میں رہنے والے شیعوں کے ساتھ بھی ہے، جہاں ان کو دیوبندی لشکروں کی طرف سے قتل و غارت کا سامنا ہے، وہیں ان کے اپنے مذہبی رہنما ان لٹے پٹے متاثرین کے نام پر چندہ کھاتے اور بے کس بیواؤں سے نکاح کرتے ہیں۔
اس دہرے استحصال کی ذمہ داری بہر حال ریاست پاکستان پر ہے، جس نے مذہبی پہلو سے جڑے ہوئے انسانی پہلو کو نظر انداز کیا ہے اور اپنے ان شہریوں کو لا وارث بنا دیا ہے۔

4. کیا احمدی غدار ہیں؟

اب آتے ہیں اس الزام کی طرف کہ احمدی وطن دشمن ہیں۔ ‏احمدیوں کو پاکستان کیلئے خطرہ اور بہت طاقتور مافیا کی شکل میں پیش کرنے کا مقصد ہے کہ لوگ انکو اپنے مفادات کیلئے خطرہ سمجھیں۔ یہی کام یورپ میں یہودیوں کے خلاف کیا گیا اور اسی جہالت سے ہٹلر کی پیدائش ہوئی۔یورپ میں بھی یہ جاہلانہ بات عام تھی، اور اب بھی کسی حد تک ہے، کہ ”فرنگ کی رگ جاں پنجۂ یہود میں ہے“۔ حالانکہ اسرائیل کا جرمنی اور فرانس اور انگلینڈ سے کیا مقابلہ، وہ تو اپنے سے نصف  آبادی والے ڈنمارک، فن لینڈ  اور ناروے سے بھی بہت پیچھے ہے۔ بہر حال، ”پاکستان کی رگ جاں پنجۂ قادیان میں ہے“ طرز کا جھوٹ بولنے والے سفاک علما سمجھتے ہیں کہ ”اسلام کو خطرہ“ کا نعرہ کافی نہیں۔جب تک لوگوں کے معاشی مفاد کے خطرے میں ہونے کی افواہ نہیں پھیلائیں گے، تب تک نسل کشی میں تیزی لانا ممکن نہیں۔ یہی طریقۂ واردات شیعوں کے خلاف بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اقلیت کو نشانہ بنانے کا یہ حربہ پرانا ہے۔ فاشزم عوام سے یہی کہتا ہے کہ مخالفین  سب کچھ کنٹرول کر رہے ہیں، یہ تمہارا اصل مسئلہ ہیں۔بد قسمتی سے اقلیت کے مذہبی رہنما اس پروپیگنڈے کو سن کر خوش ہوتے ہیں کیونکہ انکو اپنا دائرہ اثر بڑھتا محسوس ہوتا ہے۔ نیز وہ اس جھوٹ کو اپنی حقانیت کی دلیل سمجھتے ہیں کہ ان کے مذہب و مسلک کے پیروکار معاشرے کے سرکردہ افراد ہیں۔ حالانکہ اقلیت کبھی کسی ملک کو کنٹرول نہیں کیا کرتی۔
احمدیوں پر یہ الزام بھی پرانا ہے۔ علامہ اقبال نے بھی نہرو کے نام خط میں احمدیوں پر یہی بے بنیاد  الزام لگایا تھا۔ 1900ء  کے بعد سے  چونکہ انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک چل پڑی تھی، اس لیے گرم توے پر علماء نے بھی اپنی روٹیاں پکانے کیلئے مخالف فرقوں کو انگریزوں کے ایجنٹ اور غدار وغیرہ کہا۔ چنانچہ سراج الدولہ کے شیعہ ہونے کو چھپا لیا جاتا اور میر جعفر کے شیعہ ہونے کو نمایاں کیا جاتا۔ اسی طرح نظام حیدرآباد اور روہیلہ کے کردار کو کبھی ان کے سنی ہونے کا نتیجہ قرار نہ دیا گیا۔ قادیانیوں پر یہ وطن دشمن اور غدار ہونے کا الزام اب تک چلا آ رہا ہے، حالانکہ سب فرقوں کے مذہبی پیشوا 1857ء کے بعد انگریزوں کی دہشت کے سامنے سر بسجود ہوئے، جہاد کو سکھوں ہندوؤں تک محدود یا سرے سے منسوخ کیا اور انکی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کی۔  آزادی کی تحریک اور پاکستان کے قیام میں احمدیوں کا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا دوسروں کا!

5. کیا قادیانیوں سے اسلام کو خطرہ ہے؟

قادیانیوں کے خلاف اتنی نفرت پھیلانے کا راز کیا ہے؟ ‏اصل میں مذہبی پیشواؤں کا طبقہ  خود اپنے مذہب پر اتنا پکا یقین نہیں رکھتا ہوتا جتنا انکے پیروکار رکھتے ہیں۔ اسلئے وہ سمجھتا ہے کہ دوسرے لوگوں کو کافر اور پھر کافر کہنے کے بعد آزادی سلب نہ کی اور جینا حرام نہ کیا تو اسکے اپنے جال میں پھنسی مچھلیاں دوسرےفرقے کے جال میں چلی جائیں گی۔ اسکوپتا نہیں ہوتا کہ لوگ اسکی توقع سے زیادہ بیوقوف ہیں۔ وہ اتنا جلدی اسکا جال نہیں چھوڑیں گے۔ یہ  رویہ انسان کے ارتقاء کے مشکل مراحل میں بقا کی جدوجہد کی وراثت ہے: جنگل کی مشکلات کا سامنا کرنے کیلئے جو انسان مشترکہ جہاں بینی کی بنیاد پر تعاون کا رجحان تھے، وہی باقی رہے۔ہمارے معاشرے میں اگرچہ تعلیم یافتہ امرا جنگل کی مشکلات اور جہالت سے نکل آئے ہیں لیکن غربا کو ہنوز جنگل کے حالات  کا سامنا ہے۔ اسی لئے اگرچہ امرا نشہ دولت میں مذہبی رہنماوں سے غافل رہتے ہیں، لیکن غریب ترکھانوں کا منڈا  ان سے بازی لے جایا کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ‏قادیانیوں سے اسلام کو کوئی خطرہ نہیں، نہ کسی اور سے ہے۔ قادیانی تحریک بھی کٹر پن کی تحریک ہے، وہابی تحریک کی طرح، اور اکثر لوگ کٹر پن کی تنگ زندگی پسند نہیں کرتے۔(کٹر پن کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ قائد اعظم کےشیعہ اثنا عشری ہونے کی وجہ سے پاکستان کے پہلے احمدی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان نے نہ انکی پہلی  نماز جنازہ میں شرکت کی جو انکے اپنے مسلک کے مطابق گورنر ہاوس میں ہوئی اور نہ  دوسری  عوامی نماز جنازہ میں شرکت  کی)۔  پھر ان میں امریکی مورمن فرقے کی طرح خلیفہ اور جماعت کے عہدیدار ذاتی آزادی کا احترام نہیں کرتے۔  اسی طرح احمدیوں کیلئے اپنی آمدنی کا ایک حصہ چندے کے عنوان سے مذہبی اسٹیبلشمنٹ  کو لازمی دینا ہوتا ہے۔ ایسی جماعت کبھی عوامی مقبولیت حاصل نہیں کرتی۔ امریکہ کے مورمن فرقے کی دو سو سالہ تاریخ دیکھ لیں۔

6. کیا احمدی جہاد کے منکر ہیں؟

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ احمدی جہاد کے منکر ہیں۔ ا س سلسلے میں مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے انگریزوں کے خلاف جہاد کو غلط کہنے کو بطور ثبوت پیش کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا صاحب جن حالات میں پیدا ہوئے تھے ان حالات میں مولانا جعفر تھانیسری اور سرسید احمد خان نے سید احمد بریلوی کی نسبت سے یہ دعوی کیا تھا کہ انگریزوں کے خلاف لڑنا ناجائز ہے۔ رنجیت سنگھ کے بعد ہندوستان میں انگریزوں کے سامنے کوئی عسکری مزاحمت باقی نہ رہی تھی۔1857ء کے بعد دس سالوں میں  ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ ہندوستانیوں کو سزائے موت دی گئی تھی۔پچاس سال تک ہندوستان پر طویل خاموشی چھائی رہی۔ جنگ عظیم اول کے دوران انگریز راج کمزور پڑتا دکھائی دیا تو کانگریس اور مسلم لیگ نے آہستہ آہستہ انگریزوں کی مخالفت شروع کی۔ علما بھی انکے خلاف بولنے کی ہمت تبھی پیدا کر سکے اگرچہ انہیں ہندوستانیوں کے معاشی اور سیاسی حقوق  کے تحفظ سے زیادہ جدید علوم و تہذیب  کی مخالفت کی فکر تھی کہ جس نے انکو بیروزگار کیا تھا۔ ان کے مفادات عوام کے مفادات کے برعکس تھے۔ اسی لئے وہ کانگریس اور مسلم لیگ کی طرز کی عوامی رابطے کی سیاست کرنے کے بجائے ہندوستان سے باہر بادشاہوں سے رابطے کر رہے تھے۔ اب علماء دوبارہ افغانستان سے کسی لشکر کے حملے(تحریک ریشمی رومال)  یا ترکی کی خلافت عثمانیہ کی بحالی(تحریک خلافت)  کی فکر میں تھے کہ شاید اسطرح پسماندہ تہذیب دوبارہ ہندوستان پر مسلط ہو جائے۔جدید علوم و تہذیب سے اپنی معاشی شکارگاہ کو بچانے کیلئے علما ءاتنے بے چین تھے کہ مسلمانوں کے افغانستان کی طرف ہجرت کرنے  کا فتوی دے دیا، کیونکہ افغانستان میں اس وقت تک  قرون وسطی کا پسماندہ بادشاہی  نظام قائم تھا جسے یہ اپنی معاش کیلئے دارالسلام سمجھتے تھے۔ یہی انکا  کل جہاد تھا۔آج بھی” انگریز کےقانون“ کے خلاف مولانا عبد العزیز کے جہاد کی بنیاد میں  یہی  مخمصہ ہے۔
لہذا اپنے زمانے کے حالات میں مرزا صاحب کا جہاد کو منسوخ کرنا اچنبھے کی بات نہیں۔ البتہ بعد میں احمدی خلیفہ نے فرقان فورس  نامی جہادی تنظیم بنائی اور پاکستان بننے کے فورا بعد کشمیر کی جنگ میں اس تنظیم نے حصہ بھی لیا۔ قبائلی علاقوں اور پنجاب سے جانے والے  مجاھدین نے کشمیر جا کر وہاں کی ہندو آبادی کے ساتھ کیا کیا، وہ ایک الگ داستان ہے۔

7. کیا احمدی پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے؟

مسیحیوں کی بستیاں جلانے اور ہندوؤں کو بھارت کی طرف ہجرت پر مجبور کرنے والے کہتے ہیں کہ چونکہ احمدی خود کو کافر نہیں کہتے اسلئے ہم انکی زندگی کو اجیرن بناتے ہیں، ورنہ تو انکی زندگی پاکستانی مسیحیوں اور ہندوؤں کی طرح پھولوں کی سیج ہوتی۔ وہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ احمدی پاکستان کے آئین کے باغی ہیں۔  ہر نسل کش مہم اپنے لئے اس قسم کے منافقانہ جواز گھڑا کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ احمدی پاکستان کے آئین کو مانتے ہیں۔ البتہ وہ دوسری ترمیم کواپنی حد تک  نہیں مانتے جس میں انکو کافر قرار دیا گیا ہے۔ مگر وہ اسکی رعایت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً اپنی عبادتگاہ کو مسجد کے بجائے دارالذکر کہتے ہیں۔  آئین کا تعلق انسان کی سماجی زندگی سے ہوتا ہے۔ اسکی باطنی زندگی سے نہیں۔ آئین کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی ویرات کوہلی  کی بلے بازی کو پسند کرتا ہے یا جھانوی کپور  سے خواب میں نکاح فرما چکا ہے۔ اسی طرح احمدی اگر خود کو مسلمان سمجھتے ہیں اور ہمیں کافر،  تو یہ آئین کی مخالفت نہیں ہے۔ یا اگر ہندو ، مسیحی اور دوسرے غیر مسلم پاکستانی قرارداد مقاصد کو پسند نہیں کرتے تو وہ ریاست کے باغی نہیں ہو جاتے۔ البتہ لال مسجد کے مولانا عزیز پاکستان کے آئین کے کھلم کھلا منکر ہیں ۔ دیوبندی مفتی شامزئی صاحب نے تو پاکستان  کے  خلاف ہر قسم کے ذرائع استعمال کرنے کا فتوی دے رکھا ہے جس کو آج بھی طالبان اپنے خودکش دھماکوں کا شرعی جوازقرار دیتے ہیں۔آئین سے بغاوت ا س عملی جنگ کو کہتے ہیں!

8. مستقبل کا راستہ کیا ہے؟

‏اب ہمارا کیا کام ہے؟ ہمیں چاہیئے کہ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد بے روزگار ہونے والے مذہبی لیڈران کے پیدا کردہ مسائل کی حقیقت کو سمجھیں۔ ان سے باہر نکلیں۔ اصلی مسائل کی طرف توجہ دیں۔ اب 1947ء کے بعد ہم آزاد ہیں۔ ہمیں ترقی کرنا ہے۔ امن، خوشحالی کی کوشش کرنی ہے۔ برداشت  پیدا کرنا ہے اور ایک دوسرے سے ڈرنا چھوڑ کر اعتماد کرنا سیکھنا ہے۔ اس مقصد کیلئے نیا سیکولر آئین بنانا ضروری ہے جو موجودہ آئین کے برعکس  پاکستان کے شہریوں کے مذہب سے سروکار نہ رکھتا ہو۔بیانئے کے محاذ پر نفرت کا مقابلہ حقائق کو آسان زبان میں بیان کر کے کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کیلئے ہمیں پچھلے دو سو سال کی تاریخ کے بارے میں علما کے پھیلائے ہوئے جھوٹ سے نکلنا پڑے گا۔ہمیں علما کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہم احمدیوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک میں انکے آلہٴ  کار نہیں بنیں گے۔ ہمیں اپنا وقت اور سرمایہ مثبت سرگرمیوں میں خرچ کرنا ہے۔
تیسری بات:  مذہبی اقلیتوں کو اپنی سیاسی نمائندگی کیلئے جدید قانون اور سماجی علوم میں مہارت رکھنے والی، یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل  سیکولر قیادت کو سامنے لانا ہے۔ مذہبی اقلیتیں جب تک اپنی سیاسی نمائندگی کو مذہبی پیشوائیت سے الگ نہیں کرتیں، کسی بھلائی کی امید نہ رکھیں۔یہی معاملہ ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کا ہے: انہیں  سیاسی نمائندگی کیلئے مذہبی پیشواؤں  کے  بجائے  محمد علی جناح جیسی سیکولر قیادت چاہیئے۔انکے مذہبی رہنما انکی نمائندگی کا نہ شعور رکھتے ہیں نہ انکے مفادات عام مسلمانوں کے مفادات سے ملتے ہیں۔ وہ کانگریس کے کٹھ پتلی تھے اور رہیں گے۔بقول اقبال:-
میں جانتا ہوں جماعت کا حال کیا ہو گا
مسائلِ نظری میں الجھ گیا ہے خطیب
سیاست میں مسائلِ نظری سے تعلق رکھنے والے مذہبی پیشواؤں کا کیا کام؟

9. انقلاب آیا تو کیا ہو گا؟

آخر میں ایک اہم غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے۔ جب کبھی شیعوں یا دوسری مذہبی اقلیتوں کی آہستہ رو  نسل کشی   کی بات کی جائے تو کچھ لوگ اس کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ اتنا ظالم نہیں۔ وہ کم وقت میں  لاکھوں لاشیں دیکھے بغیر اس مظہر کی موجودگی کو ماننے سے انکاری ہیں۔
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا!
انہیں یہ جاننا چاہیئے کہ  مارنے والوں کا ارادہ مکمل صفایا کرنے کا ہے۔ متاثرین کو منصوبہ بندی سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انکی سماجی حیثیت کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کی تاریخ کو مسخ کیا جاتا ہے۔ مذہبی اقلیتیں پاکستان سے ہجرت پر مجبور ہیں۔ رہی کم وقت میں لاکھوں لاشیں گرنے کی بات تو اسی سرزمین پر 1947ء میں پانچ  لاکھ ہندو اور سکھ ذبح کئے گئے اور انکی عزتیں لوٹی گئیں۔ یہ ہمارے ہی دادا ، پردادا  تھے جو صدیوں سے ساتھ رہنے والے اپنے   غیر مسلم پڑوسیوں کے مال اور ناموس پر ٹوٹ پڑے۔ ہمارے مذہبی پیشوا بجرنگ دل اور راشٹریہ سیوک سنگ سے کم نہیں۔ 1947ء میں انقلابی ماحول بنتے ہی  مساجد سے جہاد کے اعلان ہونے لگے اور سلسلہ تب رکا جب نئی حکومت کی رٹ بحال ہوئی۔ ہر شہر میں سینکڑوں ایسے لوگ ہیں جن کے آبا و اجداد اس سال جان اور ناموس کے خوف سے مسلمان ہوئے ۔ اس نسل کشی کی تفصیل اشتیاق احمد نے اپنی کتاب (The  Punjab Bloodied) میں دی ہے۔  اگرچہ جرمنی میں ہولوکاسٹ کی وکالت کرنے والے ڈھونڈے سے نہیں ملتے لیکن ہمارامعاشرہ ایسے لوگوں سے بھرا ہوا ہے جو 1947ء کے ہندو و سکھ  نسل کشی  کی توجیہات بیان کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں وحشت کی صلاحیت بہت ہے، بس کسی انقلاب کے دوران موقع  ملنے کی دیر ہے۔
جو شیعہ اتحاد بین المسلمین کے پرچم تلے سیکولر ازم کی مخالفت میں اسلامی انقلاب کے نعرے لگاتے ہیں، انھیں رونڈاکے قتل عام (Rwandan Genocide) پر ایک اچھی سی ڈاکومنٹری دیکھ لینی چاہئیے۔اتحاد بین المسلمین علما کے من گھڑت اسلامی نظام میں ممکن نہیں، صرف  شہنشاہ اکبر کا ایجاد کردہ سیکولرازم ہی  مختلف مذاہب و مسالک کے لوگوں کے ایک ساتھ رہنے کا انتظام کر سکتا ہے۔  اگر کوئی ایران نواز عالم آپ کو بلیک میل کرے تو اسے کہیں کہ پاکستان میں سیکولرازم کی مخالفت سے پہلے اپنے ایرانی رہنما سے شام میں سیکولرازم کی مخالفت اور اخوان المسلمون کے آگے ہتھیار پھینکنے کا مطالبہ کرے۔
جو وہاں پیو تو حلال ہے، جو یہاں پیو تو حرام ہے؟



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں