عرب دنیا میں اسلامی انقلاب : پاکستانی شیعہ کیا سیکھ سکتے ہیں؟

لکھاری: حمزہ ابراہیم
عرب بہار کے آغاز کو متعدد شیعوں نے باقی ہم وطنوں کی طرح تازہ ہوا کا جھونکا سمجھا۔ بحرین اور سعودی عرب کے شیعہ اپنے حقوق میں بہتری کیلئے قانونی اصلاحات کا مطالبہ لے کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ اہم شیعہ رہنماؤں نے عرب دنیا میں احتجاج کی لہر کو اسلامی بیداری قرار دیا۔ ایران یہ سمجھ رہا تھا کہ شمالی افریقہ میں اخوان المسلمون کی کامیابی سے اسکی اتحادی حکومت آ جائے گی۔  چنانچہ 5 فروری 2011 کو تہران میں آیت الله خامنہ ای نے نماز جمعہ کے اجتماع سے خصوصی خطاب کیا اور عرب بہار کو سیکولر کے بجائے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی۔ آیت اللہ خامنہ ای کا اخوان المسلمون سے رومانس بہت پرانا ہے۔ انہوں نے نوجوانی میں سید قطب کی کتاب معالم فی الطریق کا فارسی میں ترجمہ کیا تھا۔ اس خطاب کا خلاصہ درج ذیل ہے:۔
آجکل دنیائے اسلام میں ایک عظیم اور تاریخی تحریک نے جنم لیا ہے جو خطے میں طاقت کے توازن کو اسلام اور عوام کے حق میں موڑ سکتی ہے۔ یہ تحریک تیونس سے شروع ہو کر مصر میں پہنچ گئی ہے، وہ مصر جو عظیم اسلامی شخصیات کو جنم دیتا رہا ہے۔ اس وقت سب کی نظریں مصر پر لگی ہیں جوسید جمال الدین افغانی، محمد عبدہ، احمد شوقی ، حسن البنا اور جمال عبدالناصر کا ملک ہے۔  اگر اس وقت مصر کے عوام نے ہمت ہار دی تو ایک سیاہ دور شروع ہو سکتا ہے، لیکن اگر انہوں نے ہمت نہ ہاری تو عزت و عظمت کی بلندیوں تک پہنچ جائیں گے۔  تیونس کے عوام نے امریکی حمایت یافتہ حکومت کو گرا دیا ہے مگر محض اس حکومت کا خاتمہ کافی نہیں ہے۔ یہ لوگ صرف اس نظام کے ظاہری مہرے تھے۔  اگر سابقہ نظام کو تبدیل نہ کیا گیا تو کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ ایران میں ہمارے انقلاب کے بعد بھی بہت کوششیں ہوئیں کہ مہرے ہٹا ئے جانے کے بعد پرانا نظام باقی رکھا جائے لیکن ہمارے عوام اور ہماری قیادت امام خمینی نے بصیرت کے ساتھ انکی چالوں کا مقابلہ کیا۔ مصر اسلامی ممالک میں سب سے نمایاں رہا ہے۔ اس ملک نے اسرائیل کے ساتھ کئی جنگیں لڑی ہیں اور یہ پہلا ملک تھا جو مظلوم فلسطینیوں کی مدد کو پہنچا تھا۔  عظیم تاریخی اور ثقافتی ورثے کی بدولت ماضی میں مصر کا کردار قائدانہ رہا ہے۔  مصر کے موجودہ حکمران (حسنی مبارک) نے سب سے بڑا جرم یہ کیا کہ مصر جیسے عظیم ملک کو امریکی مہرہ بنا کر رکھ دیا۔ فلسطین کا مسئلہ مشرق وسطیٰ کا اہم ترین مسئلہ ہے اور اس خطے کا کوئی ملک اس سے کٹ نہیں سکتا۔  اسی وجہ سے اس خطے کے عوام ایسی حکومتوں کی پشت پناہی کرتی ہیں جو فلسطینیوں کے ساتھ ہوں۔ بدنام زمانہ کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد سے مصری عوام نے اپنی حکومت سے منہ موڑ لیا ہے۔  اس معاہدے کے بعد سے مصر اس علاقے میں اسرائیل کا سب سے بڑا دوست بن کر سامنے آیا ہے۔ حالانکہ اسی علاقے میں شام کی حکومت نے کامیابی سے امریکی دباؤ کا سامنا کیا ہے اور حق پر مبنی موقف سے رو گردانی نہیں کی ہے۔  مصری عوام اب اسرائیل نوازی کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔
عزیز بھائیو! اگرچہ ہر ملک کا سیاسی اور تاریخی پس منظر مختلف ہوتا ہے، پھر بھی بہت سے معاملات ایسے ہیں جن میں آپ کو ہمارے انقلاب کے تجربے سے کئی درس مل سکتےہیں۔ ایک سبق تو یہ ہے کہ کسی بھی معرکے میں اہم ترین معرکہ اعصاب کی جنگ ہوتی ہے، اپنے اعصاب کو مضبوط رکھیں ۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں پُر امید رہیں۔تیسرا یہ کہ  اسلحے سے خوفزدہ نہ ہوں۔  چوتھا یہ کہ آپس کا اتفاق و اتحاد برقرار رکھیں، فرقہ وارانہ اور دیگر اختلافات کے ذکراور نعروں سے دور رہیں۔ پانچواں سبق یہ ہے کہ دھوکے باز امریکہ پر کبھی اعتماد نہ کریں۔  انکی سیاسی چالوں سے ہوشیار رہیں، وہ اس مہرے کو ہٹا کر دوسرا مہرہ لانا چاہیں گے۔  یہ آپ کے شعور کی توہین ہو گی۔ چھٹا سبق یہ ہے کہ جامعہ الازہر کو اس موقعے کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔  ساتواں سبق مصر کی فوج کیلئے ہے، وہ آپ کو عوام کے خلاف استعمال کرنا چاہیں گے مگر جان لیجیے کہ اپنے عوام سے ٹکرانے والی فوج تباہ ہو جاتی ہے۔ آخری بات یہ کہنا چاہوں گا کہ امریکہ کسی معاملے میں ثالث بننے کا حق نہیں رکھتا۔ امریکہ کے مشوروں اور اقدامات پر کڑی نظر رکھیں“۔
دو دن بعد، 7 فروری 2011 کو، لبنان میں حزب الله کے رہنما سید حسن نصر الله نے قدرے سمجھدار ہونے کے باوجود آیت اللہ خامنہ ای کی اقتدا کر لی۔ انہوں نے عرب بہار کے حق میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا:۔
آج ہم مصری عوام اور نوجوان نسل کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں۔ مصر میں ایک خالص عوامی تحریک اٹھی ہے۔ اس میں اسلامی جماعتیں بھی شامل ہیں اور سیکولر بھی، اس میں مسلمان بھی شامل ہیں اور مسیحی بھی۔  بچے، جواں، مرد، خواتین، علماء، محققین، مزدور ، کسان، غرض یہ کہ سب طبقات  متحد ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی میڈیا یہ کہہ رہا ہے کہ یہ تحریک  محض غربت کے خلاف اٹھی ہے جبکہ حقیقت اتنی سادہ نہیں ہے۔  یہ ایک مکمل تحریک ہے جو سماجی انصاف ، بہتر خارجہ پالیسی، بہتر معیار زندگی ، آزادی اور جمہوریت ، غرض معاشرتی زندگی کی تمام ابعاد سے تعلق رکھتی ہے۔  اس میں عوام محض غربت سے تنگ ہو کر   شامل نہیں ہوئے بلکہ اس میں نوجوان طالب علم بھی شامل ہیں جو ملک کے مستقبل کو روشن دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اس میں شامل لوگ مصر کی عزت کی بحالی اور آزادی چاہتے ہیں۔ یہ تحریک اسرائیلی مفادات کا تحفظ کرنے والی حکومت کے خلاف اٹھی ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس تحریک کی حمایت کریں۔

کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس تحریک کو امریکی ایجنسیوں نے شروع کیا ہے ، یہ غلط ہے۔  آخر امریکی کیوں اپنے مہروں کے خلاف انقلاب برپا کریں گے؟  ہاں یہ بات صحیح ہے کہ اب امریکی اس تحریک کی کشتی پر سوار ہو کر اس کا رخ موڑنا چاہتے ہیں۔ کئی عشروں سے مصری عوام کو یرغمال بنانے والا امریکہ اس تحریک کو اغوا کرنا چاہتا ہے جو کہ بہت بڑا خطرہ ہے ۔ سب متعلقہ لوگوں کوامریکہ سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ اس خطے کے عوام امریکہ کو پسند نہیں کرتے، آج تک کیے جانے والے تمام سروے اس حقیقت کے گواہ ہیں۔ البتہ ہمارا امریکی عوام سے کوئی جھگڑا نہیں، ہمارا جھگڑا امریکی حکومت سے ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی عوام کو اندھیرے میں رکھا جاتا ہے۔ ہمارے علاقے کے عوام کا امریکہ مخالف ہونا اس وجہ سے ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ اسرائیل کا ساتھ دیا ہے، ہر جنگ اور ہر جرم میں۔خود   امریکہ نے بھی عراق اور افغانستان میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے۔
یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ امریکہ کو اس علاقے میں سب سے زیادہ عزیز اسرائیل ہے۔ امریکہ کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ اس تحریک کے نتیجے میں کون سا شخص یا جماعت حکومت میں آتی ہے، ان کو اس بات سے غرض ہے کہ وہ حکمران اسرائیل کے مفادات کا خیال رکھے گا یا نہیں؟ مذہبی جماعت ہو ، بائیں بازو کی جماعت ہو ، سیکولر لوگ ہوں یا نیشنلسٹ لوگ ہوں، مسلمان حکمران ہو یا مسیحی، امریکہ کااس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ امریکہ ہر اس شخص یا جماعت کی حمایت کرے گا جو اسرائیل کی حمایت کرے۔  مصر میں تحریک کے آغاز کے بعد سے اسرائیل ڈر گیا ہے۔ وہ اس وقت حسنی مبارک کی حکومت کو بچانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔  جو عرب حکومتیں حسنی مبارک کی حمایت کر رہی ہیں میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ اسرائیل کے ساتھ ہیں یا مصری عوام کے ساتھ؟ یہ تاریخی لمحات مسلمانوں کے مستقبل کا سوال ہیں، آپ کس کے ساتھ ہیں؟ اب میں اپنے مصری بھائیوں سے کچھ باتیں کہنا چاہوں گا۔ آپ جو کچھ کر رہے ہیں وہ ایک عظیم کام ہے۔ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے اور آپ کے فیصلے اس خطے کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔  آپ مصر کو اسکا پرانا قائدانہ کردار واپس دلوا سکتے ہیں۔ کاش ہم بھی اس وقت آپ کے ساتھ ہوتے اور اور آپ کے ساتھ ہم بھی اپنی جانوں کی قربانی دیتے“۔
مگر اس وقت مصر میں رہنمائی کیلئے کوئی سیکولر اور جدید سماجی علوم میں تعلیم یافتہ رہنما موجود نہیں تھا جو ان نازک مراحل میں بصیرت کا چراغ جلا سکتا۔  عرب بہار کسی سیاسی ارتقا کا نتیجہ نہیں تھی۔  حادثاتی اور بے سمت تحریک کی مہاریں سوشل میڈیا پر بیٹھے ناپختہ اور نیم خواندہ حضرات کے ہاتھ میں تھیں جوسیاست حاضرہ کے لطیف حقائق سے آشنا نہیں تھے۔ مصر میں انتخابات ہوئے اور معمولی اکثریت سے اخوان المسلمون جیت گئی۔ کچھ ہی عرصے میں اخوان المسلمون کا کھوکھلا پن ، قحط الرجال اور نااہلی سامنے آ گئی۔  مصر کی ہزاروں سال پرانی تاریخ میں پہلی بار عوام نے کسی سربراہ کو چننا تھا۔ اس سربراہ نے ملک کا آئین بنانا تھا۔ اس نے خارجہ پالیسی مرتب کرنا تھی۔ مصر کو اس تاریخی موقع  پر ایک ایسے قائد کی ضرورت تھی جو جدید دنیا کی تاریخ سے آگاہ ہو اور بین الاقوامی تعلقات کی باریکیوں سے واقف ہو۔ جو سیاسی تجزیہ و تحلیل کر سکتا ہو اور بصیرت پر مبنی فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔  ایسے وقت میں کم از کم کسی تاریخ کے استاد، یا ماہر سیاسیات، یا کسی ذہین قانون دان کی ضرورت تھی۔  اخوان المسلمون نے صدارت کیلئے مرسی کو نامزد کیا جو دھاتوں کا انجنیئر تھا۔  اس بیچارے کو کسی سٹیل مل کے بجائے حکومت کا انتظام تھما دیا گیا۔ مرسی کی قیادت میں اخوان المسلمین نے ہر وہ کام کیا جو نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اس کے بعد سارے اہم حکومتی عہدے صرف اپنے لوگوں میں بانٹے ۔ خارجہ پالیسی میں مرسی صاحب نے ایران اور شام سے پنگا لینا شروع کر دیا، وجہ یہ تھی کہ ان کا فرقہ ان موصوف کے فرقے سے الگ تھا۔ عرب بادشاہوں اور امریکہ کے قریب ہوئے۔  قانون بنانے کی باری آئی تو کسی جماعت کو شریک نہ کیا بلکہ اپنی مرضی کا قانون بنا کر پاس کروا دیا۔ حالانکہ انکی جماعت کو معمولی اکثریت ملی تھی اور قومی آئین جیسے معاملے میں قوم کے تمام طبقات کی شمولیت ضروری تھی ۔ مرسی یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ حکومت ملنے کے بعد وہ صرف اخوان المسلمون کا کارکن نہیں بلکہ پورے مصر کا صدر تھا، ان لوگوں کا بھی جنہوں نے اسکو ووٹ نہیں دئیے تھے۔ایسے اقدامات سے انقلاب کے دنوں میں پیدا ہونے والی قومی یکجہتی ختم ہو گئی اورحکومت کا ایک سال مکمل ہوتے ہی جون 2013 کو قاہرہ میں پہلے سے بھی بڑے مظاہرے شروع ہو گئے۔  مصر پر دوبارہ مارشل لاء نافذ ہو گیا۔
جوں جوں وقت گزرا، عرب بہار مشرق وسطیٰ کے شیعوں کے لیے بقا کے مسائل کھڑے کرنے لگی۔  دلوں میں تعصب رکھنے والے لوگ ملکی تعمیر و ترقی کے اہداف کوبھلا کر شیعہ کشی میں مشغول ہو گئے۔ عرب بہار کی اصلیت یہی تھی جس کو نہ ایرانی رہبر دیکھ سکا تھا نہ حسن نصر الله۔   اخوان المسلمون کے حکومت سنبھالتے ہی مصر بھر میں شیعہ مخالف تقریریں عام ہو گئیں۔   24 جون 2013 کو قاہرہ کے نواحی گاؤں میں ایک شیعہ مجلس پر حملہ کر کے شیخ حسن شحاتہ نامی شیعہ خطیب سمیت چار افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔  مصر میں پانچ سے دس لاکھ کے قریب شیعہ لوگ بستے ہیں جو روایتی نفرت کا نشانہ تو پہلے بھی بنتے رہتے تھے مگر یہ قتل کا واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد تھا۔  مصر میں وہی سب ہونے لگا تھا جو آزادی کے بعد سے ہی پاکستان میں ہو رہا ہے۔
عرب بہار جب شام میں داخل ہوئی تو تھوڑی سی کامیابی کی امید ملتے ہی القاعدہ کے باغی اسرائیل کی حمایت کے اعلانات کرنے لگے اور حزب الله اور ایران کو آگ لگانے جیسی سنگین دھمکیاں دینے لگے۔ وہ حماس جسے ایران اور شام نے پالا تھا، شام میں سرنگیں کھودنے اور باغیوں کو عسکری تربیت دینے لگی۔ بشار الاسد کے بہنوئی اور شامی انٹیلی جنس کے سربراہ آصف شوکت کو حماس نے قتل کر دیا۔ ان لوگوں نے لبنان میں شیعہ آبادیوں پر خودکش حملے کیے۔  حزب الله اور ایران تو طاقتور تھے اور اپنا دفاع کر سکتے تھے، ان کے بارے میں ایسی سوچ رکھنے والوں کے اپنے ملک کی اڑھائی لاکھ شیعہ آبادی کے بارے میں کیا جذبات ہوں گے؟ شیعوں کیلئے دو راستے تھے، یا گھروں میں بیٹھ کر قاتلوں کا انتظار کریں یا اس حکومت کا ساتھ دیں جس نے نہ صرف عوام میں کبھی مذہبی تعصب روا نہیں رکھا۔ یہی سوال شام میں بسنے والے معتدل سیکولر سنیوں، فلسطینی مہاجروں، علویوں، دروز، مسیحیوں اور کردوں کیلئے بھی تھا۔شیعوں سے سلوک کی   ایک مثال ادلب میں موجود فوعہ اور کفرایا نامی شیعہ قصبوں کی ہے جو سات سال مسلسل محاصرے اور حالت جنگ میں رہے ہیں۔  ان قصبوں میں کھانے پینے کی اشیا اور ادویات مرکزی حکومت کبھی کبھی ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچاتی رہی اور  روز روز کے مارٹر گولے گرنے سے کئی مکانات تباہ اور بے گناہ لوگ قتل ہو گئے ہیں۔   شام میں شیعہ آبادی کے ساتھ باغیوں نے کیا کیا ہے یہ تو جنگ کے بادل چھٹنے کے بعد ہی پوری طرح واضح ہو گا۔
عراق میں عرب بہار شیعوں کو بہت مہنگی پڑی ہے۔ داعش نے سب سے زیادہ جس طبقے کو نقصان پہنچایا ہے وہ شیعہ ہیں۔ بطور مثال  15جون 2014  کو موصل میں انہوں نے فوجی تربیتی ادارے کے طلبہ کو باہر نکالا۔ جو طلبہ سنی تھے انھیں دوبارہ کلمہ پڑھا کر چھوڑ دیا لیکن 1700 شیعہ لڑکوں کوقطار میں لٹا کر ذبح کیا اور لاشیں دریا میں بہا دیں جس سے دریا کا پانی سرخ ہو گیا۔ یہ سب بیس سے بائیس سال کے جواں تھے جن کی مائیں جیتے جی مر گئیں۔ شیعوں کو ایک قطار میں لٹا کر گولی مارنے والی ویڈیوز تو داعش کی ابتدائی پروپیگنڈا ویڈیوز تھیں اور یہ اس قدر عام ہوئی تھیں کہ اس گروہ کا ٹریڈ مارک بن چکی ہیں۔ اس وقت پاکستان میں موجود ان لوگوں کے حمایتیوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا تھا۔ یہاں سوشل میڈیا پر جنونی حضرات شیعوں کو دھمکیاں دیا کرتے تھے کہ عنقریب پاکستان میں بھی یہی کریں گے۔ کربلا اور نجف میں موجود شیعہ تہذیب کے آثار اور مراکز کو کفر کا مرکز کہہ کر ان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی وکالت کی جاتی تھی۔ شام میں حضرت زینب(س) کے روضے کو گرا کر انکی قبر چاک کرنے کی بات ہونے لگی۔ مفتی احمد العرعور اور شیخ احمد الاسیر صاحب کی تصویریں پاکستانی سوشل میڈیا پر پھیل گئیں۔ داعش نے کربلا، نجف، بغداد جیسے شیعہ اکثریت کے علاقوں پر علاقوں میں کئی خودکش حملے کیے ۔ داعش بغداد کے دروازے پر تھی جہاں سے اس نے کربلا اور نجف کی طرف ہی جانا تھا۔ اب عراق کے شیعوں پر بقا کی جنگ مسلط ہو چکی تھی۔ انہوں نے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر قتل عام کا انتظار کرنے کے بجائے مزاحمت کا آغاز کیا۔
آیت اللہ علی سیستانی کےاذن جہاد کے بعد عراق میں حشد الشعبی کا قیام عمل میں آیا اور ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کا میڈیا میں تذکرہ ہونے لگا۔ یہ وہ اقدامات تھے جنہوں نے ان مقامات اور شہریوں کی حفاظت کی۔ اگر داعش شیعہ حضرات پر یہ جنگ مسلط نہ کرتی تو شیعوں کو اپنے بچے محاذ جنگ پر بھیجنے کی ضرورت نہ ہوتی، وہ حشد الشعبی میں جانے کے بجائے پہلے کی طرح اپنی تعلیم، کاروبار اور شادی بیاہ کی فکر کرتے۔تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ اسلامی خلافت کے یہ داعی اپنے ساتھ رہنے والے دوسرے مسالک کے خون کے اتنے پیاسے کیوں ہیں؟ جہاں یہ بات غیر انسانی ہے وہاں احمقانہ بھی ہے۔ اس حماقت کا ایک ہی نتیجہ ہے اور وہ ہے بد امنی اور غربت ۔ ایسے معاشرے عالمی طاقتوں کی مصنوعات کی منڈی بن کر رہ جاتے ہیں۔وہ اپنی ضرورت کی ادویات اور مشینری کیلئے مستحکم معاشروں کے محتاج ہوتےہیں۔
عرب دنیا میں اسلامی انقلاب کی لہر سے پاکستانی شیعوں کے اس سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔ پاکستان میں اسلامی انقلاب آیا تو مساجد سے جہاد کے اعلان ہوں گے اور کلہاڑیوں سے شیعوں کا قتل عام کیا جائے گا۔ پاکستان کو کچھ نہیں ہو گا۔یہ کام 1947 میں یہاں کی دس فیصد سکھ اور ہندو آبادی کے ساتھ کیا جا چکا ہے اور 1891 میں افغانستان میں امیر عبد الرحمان خان نے ہزارہ شیعوں کے ساتھ یہی سب کیا تھا۔ بس ہر محلے میں عید الاضحی کی طرح آلائشیں اٹھانے کا آپریشن کرنا پڑے گا۔ اسکے بعد شیعوں کی جائیدادوں اور لونڈیوں کی تقسیم شاید ایک ماہ لے۔ شیعہ علماء کہیں گے کہ اوئی الله! یہ تو اسلامی انقلاب نہیں ہے- پھر وہ پہلی فلائٹ پکڑ کر  اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر دھرنا دینےامریکہ نکل جائیں گے۔
ایران اگر عراقی شیعوں کو اسلحہ اور ٹریننگ دے سکا ہے تو اسکی وجہ یہ تھی کہ عراقی شیعہ ایک تو ایرانی سرحد سے جڑے علاقے میں رہتے ہیں، دوسرا وہ اپنے علاقوں میں اکثریت ہیں- پاکستانی شیعہ تو ہر شہر میں دس سے پندرہ فیصد ہیں- پاکستانی شیعوں کیلئے مناسب مثال رونڈا (Rwanda) کی ہے، جہاں توتسی آبادی اسی طرح پھیلی ہوئی تھی اور ان کا قتل عام بھی چند ماہ میں مکمل ہو گیا تھا۔ اس وقت اقوام متحدہ بھی کچھ نہیں کر سکی تھی کیونکہ کوئی بھی ملک جغرافیائی طور پر بکھری ہوئی اقلیت کے تحفظ کیلئے اپنی فوج اتارنے اور اسکو ذبح کروانے کیلئے تیار نہ ہوا۔ یہ(Rwandan Genocide) بیس سال پہلے ہوا ہے، اسلامسٹ شیعوں کو یوٹیوب پر اس قتل عام کی ایک ڈاکومنٹری دیکھنی چاہیے۔
جب سے ایران میں انقلاب آیا ہے، پاکستانی شیعوں کو اتحاد بین المسلمین کے نام پر سیکولر ہم وطنوں سے اتحاد کرنے کے بجاۓ خلافت کا چورن بیچنے والی مذہبی جماعتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ایران نے شام سے سبق نہیں سیکھا اور اب بھی پاکستانی شیعہ علماء کو سیکولر قوتوں کی حمایت کی تلقین نہیں کر رہا۔ ڈاکٹر اسرار احمد شیعوں کی ساری تاریخ کو یہودیوں کا اسلام سے انتقام قرار دیتے ہیں لیکن ایرانی انقلاب کی تعریف کرتے ہیں کیوں کہ ایرانی انقلاب کو ایک نمونے کے طور پر پیش کر کے داعشی انقلاب لانا مقصود ہے۔ ایران میں انقلاب آیا تو اس کو پاکستان میں درآمد کرنے کی کوشش سب سے پہلے جماعت اسلامی نے کی۔ اس وقت شیعہ سیکولر تھے۔ لیکن 1985 میں منظر عام پر آنے والے علامہ عارف الحسینی جیسے مخلص مگر نیم خواندہ اور پاکستان کی تاریخ اور ثقافت سے ناواقف اور احمق مولوی نے پاکستانی شیعوں کو اس مبہم اسلامی نظام والے راستے پر لگایا۔ یوں شیعوں میں بھی ایک جماعتی گروہ پیدا ہو گیا ہے۔ پاکستانی شیعہ علماء کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے نصاب تعلیم میں پاکستان یا برصغیر کی تاریخ اور سیاست پر ایک کتاب بھی شامل نہیں۔ شیعہ سنی اختلافی مسائل میں بھی انکی توجہ جہاد کے مفہوم پر اختلاف پر نہیں ہے۔ شیعوں میں جہاد صرف تب واجب ہے جب آپ پر حملہ ہو لیکن اہلسنت میں حکومت حاصل کرنےکے بعد کفار اور غیر اسلامی حکومتوں پر حملہ کرنا نماز روزے کی طرح واجب ہے اور اس سے روگردانی جہنم جانے کا سبب ہے۔ اس بات کو عوام سے کیوں چھپایا جاتا ہے کہ پاکستان میں اسلامی حکومت کے قیام کا مطلب ہندوستان اور چین پر حملہ ہے؟ اگر اسلامی حکومت چاہتے ہیں تو مولانا خادم رضوی کی”آیا جے غوری“ والی بات کا مذاق نہ اڑایا کریں۔
مذہبی جماعتوں کے اتحاد کی اصلیت یہ ہے کہ آج تک ان جماعتوں نے پاکستان میں ستر سال سے تسلسل سے جاری شیعہ کشی کے خلاف کوئی تحریک نہیں چلائی۔ مولانا زاہد الراشدی تو کھلم کھلا کہتے ہیں کہ اتحاد کا ڈھونگ رچانے کا مقصد صرف سیکولر طبقے کے اس اعتراض کا جواب دینا ہے کہ مذہبی جماعتیں فرقہ پرست ہیں۔ پاکستانی شیعوں کو سمجھنا ہو گا کہ سیکولر سنی انکو انسان سمجھتے ہیں اور سیکولر ازم میں ہی انکی آزادی محفوظ رہے گی۔ دوسری طرف اسلامی نظام کا مفروضہ بیچنے والے آپکو یہودی سازش، کمتر انسان اور دوسرے درجے کا شہری سمجھتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں