ابوتکفیر کی امامت میں عبادت

ابو تکفیر، مولانا زاھد الراشدی نے مولانا جواد نقوی کے مدرسے جامعہ عروہ الوثقی میں "ختم نبوت و وحدت امت کانفرنس 2019" میں نماز ظہر کی امامت فرمائی ہے۔ جب ہم اجتماعی زندگی میں سیکولرازم کی بات کریں تو ایسے علماء آگ اگلتے ہیں، لیکن خود عبادت جیسے مذہبی معاملے کو بھی محض مشترکہ مفادات اور عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے سیکولر بنا لیتے ہیں۔ اپنے مذہبی موقف کو چھپا کر نماز جیسے کام کو بھی اپنے  عقیدے سے الگ کر کے بجا لاتے ہیں۔ 


ابوتکفیر زاھد الراشدی شیعوں کے قتل عام میں ملوث سپاہ صحابہ کے لئے نانا ابو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس نماز کی امامت فرما کر یا وہ خود کو امام الکافرین قرار دے رہے ہیں یا پھر انکے مقتدیوں نے اپنے مفروضہ نظام ولایت میں شیعوں کی تکفیر کو شامل کر لیا ہے۔ ان کا یہ مضمون آپکی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہونا چاہیئے۔ مولانا زاھد الراشدی فرماتے ہیں:-

" متحدہ مجلس عمل میں بھی اہل تشیع کے دیگر مکاتب فکر کے ساتھ قیادت کا حصہ رہ چکے ہیں، اس طرح دینی تحریکات کے حوالے سے قیام پاکستان کے بعد سے اب تک جو روایت اور تسلسل چلا آرہا ہے، وہ بدستور قائم ہے اور یہ دراصل سیکولر حلقوں کے اس اعتراض یا الزام کا عملی جواب ہے کہ پاکستان کے اسلامی تشخص، ملک میں اسلام اور شریعت کی حکمرانی کے بارے میں ملک کے مذہبی مکاتب فکر پوری طرح متفق اور پاکستان میں نفاذ اسلام فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں بلکہ متفقہ قومی مسئلہ ہے۔ ایک موقع پر بعض دوستوں نے یہ سوال کیا ہے کہ ہمارے والدمحترم امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفرازخان صفدرؒ کا موقف اور طرزعمل کیا تھا؟ خصوصاً اس پس منظر میں کہ انہوں نے اثناء عشری اہل تشیع کی تکفیر پر’ ’ارشاد الشیعہ‘‘ کے نام سے کتاب بھی لکھی ہے، میں نے گزارش کی کہ انہوں نے ’’ارشادالشیعہ‘‘ تصنیف فرمائی اور اس میں انہوں نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ صرف ان کا موقف نہیں بلکہ یہ تو اہل سنت کا موقف ہے اور خود ہمارا موقف بھی اثنا عشری اہل تشیع کی حد تک یہی ہے

زاہد الراشدی صاحب کا مذکورہ مضمون پڑھنے کیلئے اس لنک پر جائیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں