ایران میں ولایتِ فقیہ اور کورونا وائرس


لکھاری: حمزہ ابراہیم

ایران یا کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات پر لکھنا اس وقت ہی مناسب ہوتا ہے جب وہ حالات ہمارے ملک کے داخلی مسائل سے تعلق رکھتے ہوں۔ ایران اور سعودی عرب پاکستانی زائرین اور معتمرین سے ہر سال اربوں روپے کا زر مبادلہ کماتے ہیں۔ پاکستان کے غریب عوام سارا سال رقم اکٹھی  کرتے ہیں تاکہ وہ مقدس مقامات کی زیارت کر سکیں۔ اس دوران میزبان ملک کے ہوٹلز اور ٹرانسپورٹ کا کاروبار چمکتا ہے۔ نذرانےکی مد میں بھی موٹی رقم میزبان ملک کے ہاتھ آتی ہے۔ لیکن پاکستانیوں کے ساتھ ذلت آمیز رویہ اس وقت دیکھنے آیا جب سالہا سال سے کمائی کرنے والے ان ممالک نے کورونا وائرس پھیلتے ہی پاکستانی مہمانوں کو مناسب دیکھ بھال فراہم کرنے کے بجائے ایئرپورٹس یا زمینی رستوں سے واپس بھیج دیا۔

اس مضمون کا مرکزی موضوع ایران میں رائج  مذہبی نظام ہے۔ کرونا وائرس کا بحران ایک مثال کے طور پر زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ مضمون طویل ہے اور اس میں کچھ دیگر مضامین کے لنکس بھی فراہم کئے گئے ہیں، لہذا قاری سے صبر و تحمل  سے پڑھنے کی استدعا کی جاتی ہے۔اٹھارہ سال سے کم عمر افراد، اور وہ احباب جن کے جذبات علمی تنقید کو برداشت نہ کر سکتے ہوں، اس مضمون کو نہ پڑھیں۔

مقدمے کے طور پر یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ ہمارے مذہب میں سیاست کیلئے بھی اتنی ہی اخلاقی  ہدایات موجود ہیں، جتنی صحت کیلئے ہیں۔ کچھ مذہبی رہنما جدید دور کے سیاسی ماڈلز میں سے اپنی پسند کا ماڈل(فاشزم) اسلام کے لبادے میں پیش کر کے اسے اسلامی سیاست کا نام دیتے ہیں۔ مسلمان معاشروں کی  بدقسمتی رہی ہے کہ یہاں کمیونزم اور کیپٹلزم کی رد میں تو بہت کچھ لکھا گیا لیکن فاشزم جنگ عظیم دوم میں مغربی سرزمینوں پر شکست کھانے کے بعد کلمہ پڑھ کر ہماری صفوں میں آ گھسااور ہم نے بھی بغضِ یہود میں ہٹلر و مسولینی کو پیر و مرشد قرار دیا، حالانکہ مغربی معاشروں میں مسلمانوں کے بدترین دشمن نازی افکارہی ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگوں نے طبِ اسلامی کے نام پر جعلسازی شروع کر رکھی ہے۔ کسی بھی چیز کے ساتھ ” اسلامی“ کا لاحقہ لگا کر سادہ لوح دیہاتیوں کو اپنے مقاصد کیلئےاستعمال کیا جاتا ہے۔ ایران میں بھی  یہ کام ہو رہے ہیں اور انقلاب کے بعد اس عمل میں تیزی آئی ہے۔ آئیے اس  سانحے کا جائزہ لیتے ہیں۔

علم اور مذہب کا فرق

علم اور مذہب میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ علم کی تفسیر نہیں ہوا کرتی۔ تفسیر کا مطلب یہ ہے کہ کسی متن سے قاری صاحب کیا مراد لیتے ہیں۔ مذہبی کتب کا متن ایسا ہوتا ہے کہ اکثر مقامات پر اس کا مطلب واضح نہیں ہوتا اور اگر بعض اوقات واضح ہو تو اس کا ظاہری معنی بعض فرقوں یا علماء کیلئے قابلِ قبول نہیں ہوتا، چنانچہ دینی رہنماؤں کو مقدس متن  کی تفسیر لکھنا پڑتی ہے۔ اس طرح وقت گزرنے کے ساتھ متعدد تفاسیر وجود میں آ جاتی ہیں، اور وہ سبھی صحیح بھی ہوتی ہیں۔ مثلاً تفسیر ابن عباسؓ اپنی جگہ صحیح ہے تو تفسیر ابن کثیر اپنی جگہ درست، اور تفسیر عثمانی یا تفسیر نمونہ کو بھی غلط نہیں کہا جا سکتا۔ ریاست کے خلاف ہر قسم کے طریقے اپنا کر جہاد کرنا مفتی شامزئی کے نزدیک اسلام کا حکم ہے تو مفتی سرفراز نعیمی اس کو اسلام کے خلاف قرار دیتے ہیں۔

‏ایران کے شہر قم میں آیت اللہ سعیدی کا فرمانا ہے کہ قم کا مقدس حرم  دار الشفا ہے، اسے کھلا رہنا چاہئیے اور عوام کو پوری قوت کے ساتھ زیارت کیلئے آتےرہنا چاہئے۔ اسی شہر قم میں آیت اللہ مکارم شیرازی کا کہنا ہے کہ کسی شخص تک کرونا وائرس کا جراثیم منتقل کرنے کا گناہ قتل کے برابر اور اس کی سزا دیت ہے۔ ایسی متضاد تفاسیر مذہبی لوگوں کے کسی نہ کسی حصے کے لئے ٹھیک بھی ہوتی ہیں۔ علماء کا اصول یہ ہے کہ اگر دینی رہنما کا اجتہاد اللہ کو پسند آ جائے تو اسے دو نیکیاں ملتی ہیں، نہ آئے تو ایک نیکی ملتی ہے۔ دین کی متعدد تفاسیر کا امکان پائے جانے سے دینی رہنماؤں کو عوام سے ہٹ کر ایک الگ طبقاتی مقام مل جاتا ہے۔ وہ ’اتحادِ عالم و معلوم‘ کے قائل ہو جاتے ہیں۔ دینی رہنماؤں کی تفاسیر ہی دین کہلاتی ہیں۔

مذہب کے برعکس علم کی دنیا میں متن کی ایک ہی تشریح ہوا کرتی ہے اور کوئی تفسیر نہیں ہوا کرتی۔ جس بات کا ایک معین اور واضح معنی نہ ہو، علم اس کو  اپنے دائرے سے خارج سمجھتا ہے۔ چنانچہ نیوٹن کے کشف کردہ قوانین اتنے سال گزرنے کے باوجود وہی تشریح رکھتے ہیں جو نیوٹن کے زمانے میں تھی۔ آج بھی انجینیرنگ کے کئی شعبے انہی قوانین کی بنیاد پر قائم ہیں۔ سائنس دان  امریکی ہوں، چینی یا عرب؛ یہودی ہوں، مسلمان یا ملحد؛ جمہوریت پسند ہوں یا کسی کمیونسٹ تنظیم کے کارکن؛ سب ایک ہی تشریح پر متفق ہیں اور آج تک ان کی کوئی تفسیر نہیں لکھی گئی۔ علم کی دنیا میں عقل کے سوا کوئی رہنما نہیں ہوتا نہ کوئی عالم مقدس ہوتا ہے۔ علم سیکولر ہوتا ہے اور اس کی نگاہ میں صرف سچ مقدس ہوتا ہے۔ مثلاً اگر ڈارون یا اس کے بعد آنے والے کسی سائنس دان کی کوئی بات علم کے قوانین پر پوری نہ اترے تو وہ نظریہ ارتقا کا حصہ نہیں بنے گی کیونکہ علم کے لئے عالم نہیں، سچ مقدس ہے۔

یہاں ایک اور غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے۔ علم کے سیکولر ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ علم کے آ جانے سے لوگ مذہب کو چھوڑ دیتے ہیں۔ لوگ نہ علم کی وجہ سے مذہب کو اپناتے ہیں، نہ اسکی وجہ سے ترک کرتے ہیں۔ اگر کمیونسٹ حکومتوں نے روایتی مذاہب پر پابندی لگائی تو انہیں لینن یا ماوزے تنگ کو خدا  اور کمیونزم کے نفاذ  کو ہدفِ زندگی بنانا پڑا۔ چی گویرا  وغیرہ آفاقی شہداء  قرار پائے۔  مذہب انسان کی ضرورت ہے، جیسا کہ نیند یا پانی پینا انسان کی ضرورت ہے۔ مذہب سے لگاؤ  ارتقا کے مشکل مراحل میں بقا کی جدوجہد کی وراثت ہے: جنگل کی مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے جو انسان مشترکہ جہاں بینی کی بنیاد پر تعاون کا رجحان رکھتے تھے، وہی باقی رہے۔ کمیونٹی بلڈنگ کے علاوہ مذہب  انسان کو مقصد ِ حیات بھی فراہم کرتا ہے۔    حتی کہ کارل مارکس نے بھی مذہب کو  زندگی کی تلخی کم کرنے والا تریاق (pain  killer) کہا ہے، اگرچہ اسکی بات میں سے آخری جملہ اٹھا کر اسکو مذہب دشمن مشہور کر  دیا گیا:

Religion  is  the  sigh  of  the  oppressed  creature,  the  heart  of  a  heartless  world,  and  the  soul  of  soulless  conditions.  It  is  the  opium  of  the  people.

ترجمہ: ”دین پسی ہوئی مخلوق کی آہ ہے، وہ ایک جذبات سے پاک دنیا میں احساس کاشعلہ ہے، وہ بے روح حالات کی روح ہے۔ دین عوام کی افیون ہے“۔

1849ءمیں جب کارل مارکس یہ جملے لکھ رہا تھا، ہسپتالوں میں درد سے کراہتے ہوئے شخص کو درد کی شدت میں کمی لانے کیلئے  افیون دی جاتی تھی، اور اس نے مذہب کیلئے افیون کا لفظ اسی پس منظرکی وجہ سے  استعمال کیا تھا۔

 مذہب مناظرانہ بحثوں سے نہیں پھیلا کرتا،  مذہب کے وسیع پیمانے پر  پھیلاؤ کے اسباب بحث و مباحثہ وغیرہ نہیں، کچھ اور ہیں۔چھاپہ خانے کی ایجاد سے پہلے عام لوگوں کو کتاب خوانی کی سہولت میسر نہیں تھی، اسی طرح جدید ٹیکنالوجی کی پیدا کردہ آسانیوں کے نہ ہوتے ہوئے عوام کے پاس مطالعے کا وقت بھی نہ تھا۔ پڑھنا لکھنا، بحث مباحثے کرنا، خواص ہی افورڈ کر سکتے تھے۔ جو خواص علم کی وادی میں جاتے تھے، وہ  مذہب کو سیاست اور علم سے الگ کر کےسیکولر ہو جایا کرتے تھے۔علمی ترقی کا دین پر صرف یہ اثر ہوتا ہے کہ ہم مذہب کی نئی تفسیر کر لیتے ہیں اور پھر یہ کہنا ہوتا ہے کہ یہ سب تو پہلے ہی مذہب میں تھا۔


زمانے کا امام علم ہوتا ہے۔ زمانہ گھڑی کے چلنے سے نہیں بدلتا بلکہ نئی ٹیکنالوجی آ جانے سے بدلتا ہے۔  علم ٹیکنالوجی کو جنم دے کرزمانے کو  بدلتا ہے اور پھر اس بدلے ہوئے زمانے کے ساتھ دین کی تفسیر بدل جاتی ہے۔چنانچہ بیسویں صدی میں ٹیلی ویژن شیطان کا گھر ہوتا ہے تو اکیسویں صدی میں ٹی وی چینلز پر براجمان ہونا فرضِ عین بن جاتا ہے۔عباسی دور  میں  مسلمان لشکر سنٹرل ایشیاء پہنچے تو انہیں کاغذ بنانے کی ٹیکنالوجی ملی۔ اس سے پہلے وہ چمڑے، لکڑی اور پتھر پرہی لکھ سکتے تھے۔ اس ٹیکنالوجی نے انہیں یونانی، چینی اور ہندوستانی علوم کا ترجمہ کرنے  اور علمی کتابیں لکھنے کی صلاحیت بخشی۔ عباسی خلیفہ مامون الرشید کی علم دوستی اور اسکے قائم کردہ  دارالترجمہ نےزمانے کو بدل دیا۔ علوم کے ترجمے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں نے حدیث اور تاریخ کی کتب تدوین کیں اور قرآن و حدیث میں جن  جدیدمسائل کا حل نہ ملتا تھا، فقہ کی شکل میں لکھنا شروع کیا۔زمانہ بدلنے سے   اسلام کی پہلی بڑی تفسیر فقہ کے نام سے سامنے آئی۔ تب سے یہ سلسلہ جاری ہے کہ  علماء کے ذوق کے مطابق   یونان کی منطق کو استعمال کر کے علم کو  دینی متون کے ساتھ  کبھی ٹکرایا تو کبھی ملا دیا جاتا ہے۔ الفاظ کے الٹ پھیر کو ”عقلی دلائل“ پکارا جاتا ہے اور اس پر تجربے یا کائنات کے ریاضیاتی اصولوں سے ہم آہنگ ہونے کی کوئی قید نہیں لگائی جاتی۔  فقہ اور اصول فقہ کے فنون کا جنم اسی طرح ہوا تھا۔ اصول فقہ تو ایسی جادوئی مشین ہے کہ اس میں کسی بھی تحریر کو ڈال کر  سو دو سو فتوے نکالے جا سکتے ہیں۔ بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ اس عمل کے دوران ”اختلاف بین العلماء “ واقع ہو جاتا ہے۔ یہ بڑی نازک صورتِ حال ہوتی ہے۔مثال کے طور پر یونان کی ابتدائی سائنس سے تعارف کے بعد جب معلوم ہوا کہ زمین گول ہے، تو علماء میں زمین کے گول ہونے یا نہ ہونے پر جنگ چھڑ گئی جو اب تک جاری ہے۔

ٹیکنالوجی کی بنیاد علم پر ہوتی ہے، لہٰذا اگر علم صحیح نہ ہو تو کبھی ٹیکنالوجی کو جنم نہیں دے سکتا۔ اس کی ایک مثال نیوٹن کے قوانین کی بنیاد پر بننے والے انجن اور خلا میں بھیجے جانے والے راکٹ ہیں۔ چنانچہ ارتقا کے علم کی بنیاد پر برائلر مرغی بنائی گئی، یا مختلف ادویات یا حیاتیاتی ہتھیار بنائے گئے۔ یہاں سے یہ بات بھی سمجھ آ جانی چاہیے کہ جو لوگ کرونا وائرس کو کسی لیبارٹری کی پیداوار سمجھتے ہیں ان کو نظریہ ارتقا کو درست کہنا ہو گا، ورنہ ان کا یہ دعویٰ ایک کھلا تضاد ہے۔

جدید دور  میں اسلام کی تفسیر بطور نظامِ حکومت

پچھلی صدی میں ہر صدی کی طرح اسلام کی نئی تفاسیر سامنے آئیں۔ ان میں سے ایک تفسیر اسلام کو مذہب کے بجائے قومی ریاست قرار دینا تھی۔ اس میں اصولِ دین کی جگہ ریاستی ادارے اور فروع دین کی جگہ ریاست کا قانون لے لیتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعتِ محض کے حکم کو حکمران کی اطاعتِ محض قرار دیا جاتا ہے۔ ایران میں یہ سوچ ایک خام شکل میں انیسویں صدی کے عالم ملا احمد نراقی نے افلاطون کے ”فلاسفر کنگ“ کے تصور سے متاثر ہو کر پیش کی تھی، جس میں بادشاہ کیلئے فقیہ ہونے کا تصور دیا گیا تھا۔ برصغیر میں اس سوچ کی بنیادیں 1820 کے عشرے میں سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی رکھ چکے تھے، انہوں نے اپنے افکار زیادہ تفصیل سے پیش کئے تھے اور انہوں نے پانچ سال کے لئے وادی پشاور میں ایک مذہبی ریاست بھی قائم کی تھی۔ ان کی ریاست کا جائزہ ڈاکٹر مبارک علی نے اپنی کتاب المیہ تاریخ میں پیش کیا ہے۔ جوں جوں سائنس نے زمانے کو آگے بڑھایا، اسلام کو ریاست کے طور پر پیش کرنے والوں کی سوچ جڑیں پکڑتی گئی۔ یہ سوچ ان ممالک میں پروان چڑھ رہی تھی جہاں انگریزوں اور دوسری یورپی طاقتوں کا اقتدار قائم ہونے کی وجہ سے نئے خیالات متعارف ہو چکے تھے، یعنی ہندوستان اور مصر!

بیسویں صدی کے پہلے نصف  میں یہ تفسیر مصر کی اخوان المسلمون اور برصغیر کی   خاکسار،  منکرین حدیث، جمیعت علمائے اسلام اور جماعت ِاسلامی وغیرہ نے  پیش کی۔  جیسا کہ دین کی تفاسیر ہمیشہ متعلقہ زمانے کے افکار کی روشنی میں کی جاتی ہیں، اس تفسیر جس میں دین کو ریاست یا نظامِ حکومت قرار دیا گیا تھا، پر بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں اٹلی اور جرمنی کے فاشزم کے گہرے اثرات تھے۔ اگرچہ سیکولر جمہوریت کیلئے بھی دین  کے اصولِ عدل سے دلائل نکالے جا سکتے تھے، لیکن چونکہ فاشسٹ حکومتیں انگریزوں کی دشمن تھیں اور انگریزوں کو علماء اپنا روزگار چھیننے والا سمجھتے تھے، لہٰذا دشمن کے دشمن کو دوست سمجھ کر اس کے نظام کو اسلام کی نئی تفسیر بنا دیا۔ فاشزم میں لیڈر کے پاس مطلق اقتدار اور اس کالوگوں کو اپنا غلام بناکر انکی زندگیوں کو روبوٹ کی طرح کنٹرول کرنا بھی ان حضرات کیلئے بہت پر کشش تھا۔ اس مقصد کیلئے انہوں نے تاریخ میں تحریف کر کے جعلی بیانیہ کھڑا کیااور صرف تاریخ کے  ان حصوں کا انتخاب کیاجنھیں وہ فاشزم کے مطابق ڈھال سکتے تھے ۔

ایران میں اس تفسیر کو آیت اللہ خمینی نے  شیعہ اسلام کے عاشقانہ اور عوامی انداز کے ساتھ ملا دیا۔ وہ شیعہ فقہ کے ساتھ ساتھ قدیم فلسفے اور تصوف کے ماہر بھی تھے، لہٰذا افلاطون کے ”فلاسفر کنگ“ اور صوفیا کے ”مرشد“ یا ”انسانِ کامل“ والے تصور نے بھی اس فقہ شاہی کے نظریے کی صورت گری کی۔ ایران میں اس تفسیرکو ولایتِ فقیہ کا نام دیا گیا۔ اگرچہ باقی شیعہ مراجع اس تفسیر کو قبول نہیں کرتے تھے لیکن دینی متن کے اعتبار سے یہ تفسیر بھی ٹھیک تھی اور دوسری تفسیریں بھی ٹھیک تھیں۔

تصوف اور سیاست کے ملاپ کا مطلب یہ ہوا کہ حاکم کے ذاتی زندگی کے تجربات  کی اہمیت بہت زیادہ ہو گئی۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ تصوف میں جس چیز کو علمِ شہودی یا علمِ حضوری کہا جاتا ہے وہ اصل میں علمِ حصولی ہی ہے۔ صوفی  جب اپنے تئیں  حق سے ملاقات کرتا ہے تو اپنی زندگی کے فکری و عملی تجربات اور تہذیب سے ہی رجوع کر رہا ہوتا ہے۔ اسی لئے ہر صوفی کا تصوف دوسرے سے الگ ہوتا ہے، جیسے ہر مصور کی نقاشی اور ہر شاعر کی شاعری دوسرے سے الگ ہوتی ہے۔ چنانچہ ولایتِ فقیہ میں بھی ہر ولی فقیہ کا اندازِ حکمرانی دوسرے سے الگ ہو گا۔چنانچہ آیت اللہ خمینی میں اخوانی اسلام کے ساتھ ساتھ مرجعیت، ایرانی تہذیب، یونانی فلسفے اور ملا صدرا کے تصوف کی جھلک ملتی ہے تو آیت اللہ خامنہ ای کے ہاں ایرانی و مسلم تاریخ اور اخوان المسلمون کا رنگ ہے۔چنانچہ ہم نے دیکھا کہ جب شمالی افریقہ سے عرب بہار کی آندھی اٹھی تو آیت اللہ خامنہ ای کا تجزیہ اخوان المسلمون سے مختلف نہ تھا۔انہوں نے اس کو اسلامی بیداری قرار دیا۔

اب اگرچہ اقتدارِ اعلیٰ کا مالک اللہ کو قرار دیا گیا تھا، لیکن خدا ایک معبود ہی نہیں، ریاست کا اعلیٰ ترین مقام بھی بن چکا تھا۔ اسلام میں چونکہ عام انسان خدا کو دیکھ یا سن نہیں سکتے، لہٰذا بادشاہ، یعنی ولی فقیہ، کا حکم خدا کا حکم کہلایا۔

ایران میں انقلاب آنے کے بعد بیروزگار علماء کی دیہاڑیاں لگ گئیں۔ جہاں انکا کوئی کام نہ ہو وہاں بھی ایک اچھی تنخواہ والی ملازمت  ملنے لگی۔ بجلی کے محکمے، پانی کے ادارے ، یونیورسٹیوں میں، تیل و گیس کے کارخانوں  میں، ہر جگہ   نمائندگی ولی فقیہ   کے عنوان سے ایک ادارہ بن گیا جس میں متعدد علمائے کرام سرکاری ملازم ہوکر تنخواہیں وصول فرمانے لگے۔

شاہ کے ایران اور فقیہ کے ایران میں صرف یہ  تین فرق ہیں کہ فقیہ نے جبری حجاب لاگو کر رکھا ہے،  بے اختیاروزیراعظم کی جگہ بے اختیار صدر نے لے لی ہے اور خارجہ پالیسی میں ایران عرب نیشنلزم کی حمایت کرتا ہے۔ باقی وہی پرانا ایران ہے۔ اس دور میں بھی مذہبی لوگ شاہ کی خوشامد کرتے مگر وزیراعظم کو اسلام نافذ نہ کرنے کا دوش دیتے تھے، اب رہبر کی تعریف کر کے صدر کو براکہا جاتا ہے۔ تمام اختیارات رکھنے والا رہبر ”مظلوم“ کہلاتا ہے۔میانمار اور چین کے مسلمان ہوں یا ملائشیا اور جنوبی ایشیاء  کے شیعہ، جس مسلمان کی مظلومیت کی وجہ عرب نیشنلزم نہیں، اسکی  عملی حمایت نہیں کی جاتی۔ایران کی خارجہ پالیسی پر حافظ الاسد کی چھاپ بہت نمایاں ہے۔

یہاں پچھلی صدی کے پہلے نصف میں برصغیر کے شیعہ علماء کے اندازِ فکر کی طرف اشارہ نہ کرنا نا انصافی ہو گا۔ آیت اللہ سید علی نقی نقوی نے پہلی بار واقعہ کربلا کو نئے دور کے سیاسی نظریات کے آئینے سے دیکھا تو انہوں نے”شہیدِانسانیت“ میں اس واقعے کی تشریح  ٹالسٹائے اور گاندھی جی کے ”عدم تشدد“  کے تصور کی بنیاد پر کی۔ علامہ ابن حسن جارچوی نے اپنی کتاب ”فلسفہٴ آلِ محمد“ میں واقعہ کربلا کو سوشلزم کے قریب سمجھا۔ان دونوں نے فاشزم کے نظریات کو اسلامی لبادہ دینے کے بجائے اسکے متضاد نظاموں کو اسلام کے ساتھ زیادہ سازگار پایا۔ یوں یہ لوگ مجلسِ احرار، خاکسار اور اخوان المسلمون کے فکری منہج سے بالکل الگ تھے۔  ان لوگوں کی کتابیں فارسی اور عربی میں ترجمہ ہوئیں اور ان کے اثرات ڈاکٹر علی شریعتی اور آیت اللہ مطہری سمیت بیسویں صدی کے تمام اہم شیعہ صاحبان فکر و نظر پر  پڑے۔یہ اور بات ہے کہ ان تفاسیر کا کریڈٹ انکے بانیوں کو کم ہی دیا جاتا ہے ۔

اسی طرح ایک اور اہم رجحان جو بیسویں صدی میں سامنے آیا وہ ایران کے انقلابِ مشروطہ (Constututional  Revolution  of  Iran  1905 – 1911) کی شکل میں تھا۔ اس وقت دین کی ایک تفسیر جواس وقت کے   شیعہ مراجع تقلید آیت اللہ نائینی اور آیت اللہ کاظم خراسانی نے پیش کی،اس کے مطابق  سیکولرجمہوریت اسلامی تعلیمات سےہم آہنگ تھی۔ انکے مقابلے پر ایک نیم خواندہ عالم شیخ فضل اللہ نوری نے اس تفسیر کو رد کر کے مذہبی فقہ کو آئین مملکت قرار دینا چاہا ، جسے انہوں نے مشروعہ کا نام دیا۔ عباسی دور کی فقہ بیسویں صدی کے سوالوں کا جواب نہیں رکھتی تھی اور انکا مطالبہ مسترد کر دیا گیا لیکن اس نے ایران کے نیم خواندہ  مذہبی حلقوں میں وہی لہر پیدا کی جو ان سے اسی سال قبل برصغیر میں سید احمد بریلوی پیدا کر چکے تھے۔  ایران میں  1979ء کے انقلاب کے بعد آیت اللہ نائینی و خراسانی کے فکری رجحان کی نمائندگی آیت اللہ خمینی کے قریبی ساتھی اور تہران کے امامِ جمعہ آیت اللہ  سید محمود طالقانی کرتے تھے، لیکن وہ جلد ہی وفات پا گئے اور انقلابی حلقوں پر اخوانی سوچ مسلط ہو گئی جو اسلام کو ریاست قرار دیتے تھے۔ ایران کے انقلاب کے اخوانی رنگ میں ڈھلنے کے عمل میں ایک بڑا کردار ایک دہشتگرد تنظیم مجاھدینِ خلق کا بھی ہے۔ یہ عوام میں مقبول نہ تھے اور انکی اکثریت ٹیکنیکل فنون سیکھنے والے لوگوں کی تھی جو تاریخ اور سماجی علوم  سے اکثر ناواقف ہوتے ہیں۔ ان کے لیڈر مسعود رجوی نے انکو اپنا ذہنی غلام بنا کر دہشتگرد کاروائیوں کا رستہ دکھایا۔ انہوں نے آیت اللہ مطہری اور آیت اللہ بہشتی سمیت کئی اہم لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کی۔ وہ دہشتگردی کا سہارا لے کر ہٹلر بننے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ انقلابی قیادت کو جان کا خطرہ لاحق ہوا تو  اخوانی سوچ رکھنے والے علماء کا پلڑا بھاری ہو گیا اور انقلابی عدالتیں نازی ہتھکنڈے استعمال کرنے لگیں۔

البتہ عراق میں اس سوچ کو قدم جمانے کا موقع نہیں ملا ، چنانچہ اب بھی آیت اللہ سیستانی سیکولر جمہوریت کے حامی اور آیت اللہ خراسانی و آیت اللہ نائینی کے ورثے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ وہ اسلام کو ریاست کے بجائے مذہب ہی سمجھتے ہیں۔ کورونابحران میں بھی انکا موقف  آیت اللہ خامنہ ای کی نسبت بہت واضح اوراہلِ علم کےموقف کے قریب تر  رہا ہے۔

اسلام کو ریاست قرار دینے میں مسئلہ کیا ہے؟

اسلام کو ریاست قرار دینے سے ایک بہت بڑا مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ کئی مقامات پر ریاست کا مفاد شریعت کی صریح نصوص سے ٹکرا رہا تھا۔ اس تضاد کا حل پچھلی تفسیر کو بدلنے کے بجائے اس پر ایک نئی تفسیر کی بنیاد رکھ کے نکالا گیا جس کے مطابق اسلام کے احکام کو اسلام پر فدا کیا جا سکتا ہے۔یہ خیال جادو کی چھڑی ثابت ہوا۔ اس جملے کو اسلام کو مذہب کے بجائے ریاست قرار دینے کے تصور سے ملا کر دیکھا گیا تو اس کا مطلب یہ نکلا کہ ولی فقیہ اگر اسلام کے کسی حکم کو ریاست کے مفاد سے ٹکراتا دیکھے تو ریاست کے مفاد کو ترجیح دے کر اس حکم کو معطل کر سکتا ہے۔ اس نئے نظریے کا نام ”ولایتِ مطلقہٴ فقیہ“ رکھا گیا۔

اس نئی تفسیر سے نئی ریاست کی بہت سی عملی مشکلات حل ہو گئیں۔ مثلاً سود، جسے قرآن میں خدا و رسول سے جنگ قرار دیا گیا ہے، کا نام بدل کر ریاست کے مفاد میں اسے جاری رکھا گیا۔ وطن عزیز میں مفتی تقی عثمانی صاحب بھی اسی قسم کے شرعی حیلے تراش کر ”اسلامی بنکاری“ کے موضوع پر کتابیں لکھ چکے ہیں۔سلفی مسلک سے تعلق رکھنے والی داعش چونکہ  یونانی منطق پر استوار فقہ کو قبول نہیں کرتی، لہذا وہ یہ  فقہی حیلہ نہ سوچ سکے۔ ایران اور داعش میں بنیادی فرق اسی ”ولایتِ مطلقہٴ فقیہ“ کا ہے، ورنہ قدیم  فقہی احکام میں تو انیس بیس کا ہی فرق ہے۔  فقہی کتب کے مطابق غیر مسلم عورت اور لونڈی  پر پردہ کرنا حرام  ہے اور اس سے عفتِ عمومی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ماضی میں اگر غیر مسلم عورت یا لونڈی پردہ کرتی تو اس کو سزا ملتی تھی۔ ایران میں مذہب کی جدید تفسیر میں غیر مسلم عورتوں کیلئے بھی پردہ لازمی قرار پایا۔ اسی طرح ماضی میں مسلمان عورتوں کو زبردستی پردہ نہیں کرایا جاتا تھا۔ لیکن اس نئی تفسیر کے مطابق پردہ جبراً کرایا جانے لگا۔ راہ چلتی خواتین کے لباس پر اخلاقی پولیس اور نیک نوجوان تبصرے اور جانچ پڑتال کرنے لگے، جسے عام خواتین نے اپنی عزتِ نفس کے خلاف جانا اور مزاحمت شروع کر دی۔  اب ایران کے بڑے شہروں میں جبری حجاب کا قانون  ایک مذاق بن گیا ہے۔

 فقہی کتب میں موجود سنگساری، جنگ میں غیر مسلم عورتوں کو لونڈیاں بنانے، چور کے ہاتھ کاٹ کر اسے ساری عمر کے لئے معذور کرنے جیسے احکام کو ”اسلام بمعنی ریاست“ کے مفاد میں غیر معینہ مدت کے لئے معطل کر دیا گیا۔ مذہبی کتابوں کی تعلیمات کے برعکس عورتوں کی تعلیم، ان کے ووٹ دینے، کھیل کود، اور ان کے گھر سے باہر کام کرنے کو اسلام کی مصلحت کے طور پر جاری رکھا گیا۔ ”طاغوتی“ شاہ کے زمانے میں بنائی گئی جدید یونیورسٹیوں کو نہ صرف باقی رکھا گیا بلکہ اسی طرز پر مزید ادارے بھی بنائے گئے۔ ایک عدد ”مجمع تشخیصِ مصلحتِ نظام“ بھی بنا دیا گیا جو فقہ کے علمبردار علما کی کونسل اور عملی مسائل سے نبرد آزما پارلیمنٹ کے درمیان تصادم کی صورت میں اسلام، بمعنی ریاست، کے مفاد کو مدنظر رکھ کر کوئی حل نکالتی ہے۔اس نئی تفسیر کا نام ”اسلامِ ناب محمدی“ رکھ کر دنیا بھر کے مسلمانوں کو اسے اپنانے کی دعوت دی گئی۔ پاکستان میں اس دعوت کا نتیجہ شیعہ مسلمانوں کے خلاف خونریز حملوں میں اضافے کی شکل میں نکلا۔ یہاں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ برصغیر میں شیعہ مخالف تشدد ایران کے انقلاب سے پہلے بھی موجود تھا، اور یہ سلسلہ دو سو سال پرانا ہے۔ایران کے انقلاب کے بعد سید احمد بریلوی کے روحانی ورثاء نے شیعہ کشی کو سیاسی نصب العین بنا لیا۔

 ولایتِ فقیہ سے پیدا ہونے والے نئے مسائل

جہاں ولایتِ مطلقہٴ فقیہ کے تصور نے چمتکار دکھائے وہیں اس میں ایک بہت بڑی خامی بھی ہے۔ آئین اور حتیٰ کہ شریعت کے احکام سے بھی بالاتر اختیارات کا مالک فقیہ بالآخر جدید تعلیم سے محروم مدارس کا فارغ التحصیل فرد ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر ملک کے اہلِ علم اس کو کوئی علمی بات سمجھانے میں کامیاب ہو جائیں تو وہ ریاست کے مفاد میں فیصلہ کن قدم اٹھا لیتا ہے۔ لیکن اگر کوئی لطیف نکتہ ولی فقیہ کی سمجھ میں نہ آئے تو وہی ہوتا ہے جو اب ایران میں ہو رہا ہے۔

اسی طرح اس تصور میں ایک اور بڑی خامی شہریوں کے مفاد پر ریاست کے مفاد کو ترجیح دینا ہے، کیوں کہ اسلام  بمعنی نظامِ حکومت کے مفروضہ مفادپر سب کچھ قربان کیا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے جب ایران نے 14 جنوری 2020ء کو عراق میں امریکی اڈے پر کامیاب میزائیل حملہ کیا تو مسافر طیاروں کی پروازوں کو معطل نہ کیا کیونکہ ایران ممکنہ امریکی جوابی حملے کی صورت میں ان طیاروں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہتا تھا، تاکہ اگر امریکا غلطی سے کسی مسافر طیارے کو مار گرائے تو ایران اس کے خلاف شور مچا سکے۔ امریکہ چونکہ ایرانی فضا کو نظر میں رکھے ہوۓتھا،اس نے جوابی کارروائی کرنے کے بجائے ایرانیوں کی غلطی کا انتظارکیا۔تھوڑی دیر بعد ہی تہران میں ایئر ڈیفینس سسٹم کے ایک اہلکار نے  یوکرین کا مسافر طیارہ مار گرایا، جس میں کئی ایرانی اور غیر ملکی سوار تھے۔ امریکا نے اپنے سیاروں کی مدد سے اس جرم کے ثبوت اکٹھے کر کے دنیا کو دکھاۓ توایران کو لیت ولعل کے بعد مجبور ہو کر ماننا پڑا۔ سردارحاجی زادہ نے جیل جانے کے بجائے مقتولین کے ورثاء سے معذرت کر لی۔

اسی قسم کی صورتحال 7 جنوری 2020ء کو ایران کے شہر کرمان میں جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ کے دوران سامنے آئی۔  ایران عراق جنگ اور بعد ازاں داعش کے خلاف جنگ میں جنرل سلیمانی کے کردار کی وجہ سے ان کے جنازے میں ایرانی عوام کی شرکت بہت زیادہ ہو رہی تھی۔ تہران اور مشہد میں ہونے والے اجتماعات میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے تھے۔ ایرانی انتظامیہ یہ چاہتی تھی کہ کرمان ، جو نسبتاً چھوٹا شہر ہے، میں ہونے والے جنازے کی تصاویر بھی پر ہجوم لگیں۔ چنانچہ انہوں نے شہر سے باہر کسی کھلے میدان میں جنازہ پڑھانے کے بجائے شہر کے بڑے چوک میں جنازے کا اہتمام کیا تاکہ شہر کی سڑکیں بھری بھری معلوم ہوں۔ لیکن جب جلوس جنازہ سڑکوں پر آیا تو  بھگدڑ مچ گئی اور ساٹھ افراد جان کی بازی ہار گئے۔ اس سانحے کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی اور مرحومین کو شہید قرار دے کر مٹی ڈال دی گئی۔

جب ریاست خدا بن جائے تو وہ اللہ سے نہیں ڈرتی، مصلحتِ نظام ہی بیسویں صدی میں فاشزم کے نمونے پر گھڑے گئے اخوانی نظامِ حکومت کا سب سے خوفناک پہلو ہے۔ اس کے برعکس جب فروری 2019ء میں پاکستان اور بھارت میں فضائی کشیدگی پیدا ہوئی تھی تو ائرپورٹس کو مسافر طیاروں کے لئے بند کر دیا گیا تھا تاکہ کوئی جانی نقصان نہ ہو۔ الله وطن عزیز کو کسی فقیہ کی بادشاہت سے بچائے رکھے۔

کورونا وائرس نظریہ ارتقا کا جیتا جاگتا ثبوت ہے

دسمبر 2019 میں چین کے ساٹھ لاکھ آبادی والے صنعتی شہر ووہان کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو ایسے مریضوں کا سامنا ہوا جن کی بیماری روایتی زکام اور سر درد سے شروع ہو کر کچھ دنوں میں نمونیہ کی شکل اختیار کر لیتی تھی اور مریض کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہونے لگتا تھا۔ بعد ازاں کچھ افراد کے پھیپھڑوں میں خون بھی بھرنے لگ جاتا تھا۔  یہ جراثیم کرونا وائرس کی نسل سے تعلق رکھتا تھا جس کے ہم نوع 2003 میں سارس کرونا چھپکلی سے اور 2012 میں میرس کرونا اونٹوں سے ارتقا پا کر انسانوں کو منتقل ہو چکے تھے۔

یہ وائرس ان جانوروں تک چمگادڑ کی ایک مخصوص نسل پر رہنے والے وائرس سے ارتقا پا کر منتقل ہوئے تھے۔ دستیاب معلومات کے مطابق دسمبر 2019 میں سامنے آنے والا وائرس چمگادڑ کے وائرس سے ارتقا پا کر پنگولین (چیونٹی خور) میں منتقل ہوا اور وہاں سے ارتقا پا کر انسان میں منتقل ہوا ہے۔ چمگادڑ کا وائرس اس تبدیلی کے بغیر انسانی جسم کو نقصان نہیں پہنچاتا، اور اس تبدیلی کے بعد چمگادڑ کے جسم پر نہیں رہ سکتا۔ اس نئے وائرس کا نام ”کویڈ – 19“ رکھا گیا اور اس کی تخلیق میں کارفرما ارتقائی تبدیلیوں کو سمجھنے اور اس کا علاج دریافت کرنے کی کوششیں شروع کر دی گئیں۔چین نے ساٹھ لاکھ آبادی والے اس صنعتی شہر میں جہاں پہلے ہی بہت سارے ہسپتال موجود تھے، اس وبا کے پیش نظر ایک ہفتے کی کم مدت میں ایک ہزار آئی سی یو کمروں پر مشتمل ہسپتال تعمیر کر کے اور شہریوں کو گھروں میں محدود کر کے وہیں ضرورت کی چیزیں مہیا کرنے کا فیصلہ کر کے اس بیماری کے پھیلاؤ کی رفتار کو بہت کم کر دیا۔ ایران میں  یہ مرض جنوری کے مہینے میں ہی پھیلنے لگ گیا تھا لیکن اس کے باوجود ایرانی حکومت اس کے خلاف بروقت قدم اٹھانے میں ناکام رہی اور ایرانی عوام کو ایک بڑی دلدل میں پھنسا دیا۔

ایران میں کورونا وائرس کا موجودہ بحران

اب ہم ایران میں صحتِ عامہ کے موجودہ بحران کی طرف آتے ہیں۔ جب یہ وائرس چین میں ظاہر ہوا تو ایرانی رہبر کے لئے اس کے وجود کو قبول کرنا ممکن نہ تھا۔ انہوں نے جس دینی ماحول میں جوانی گزاری ہے وہاں علم، خصوصاً نظریہ ارتقا، کے خلاف جگت بازی کی جاتی ہے۔ دینی حلقوں کا عمومی رویہ جاہلانہ انکار کا ہی ہے۔ ارتقا کی سائنس سیکھنے والوں کو بندر کی اولاد کہا جاتا ہے، حالانکہ اس کے مطابق انسان بشمول علمائے کرام بندروں کی ’اولاد‘ نہیں بلکہ ان کے ’چچا زاد بھائی‘ ہیں جو لاکھوں سال پہلے الگ ہو چکے ہیں۔ نیز نظریہ ارتقا کے مطابق انسان اور بندر کی ذہنی صلاحیتوں میں اسی طرح بہت زیادہ فرق ہے جیسے مرغی اور عقاب کی قوتِ پرواز میں بہت فرق ہے۔ انسان کے اندر الفاظ و معانی کا ایک جہان آباد ہو سکتا ہے، انسان کے احساسات اور سماجی تعلقات پیچیدہ اور تہہ در تہہ ہیں، انسان پیچیدہ ریاضی سیکھ سکتا ہے۔ نظریہ ارتقا کی انسان شناسی سینکڑوں کتب پر مشتمل ایک وسیع علم ہے۔

ساری عمر نظریہ ارتقا کو سمجھنے کی زحمت نہ کرنے والے رہبر معظم کے لئے اس وائرس کا وجود قبول کرنا ممکن نہ تھا، جس کے وجود کی واحد توجیہ حیاتیاتی ارتقا ہی ہے، چاہے قدرتی ہو یا مصنوعی، اور چونکہ انسان قدرت کے قوانین نہیں بنا سکتا لہٰذا ارتقا کے قانون کا انکار کرنے والے رہبر کے لئے ساری دنیا میں مچنے والے شور کی ایک ہی توجیہ ہو سکتی تھی اور وہ یہ تھی کہ ہو نہ ہو یہ امریکہ کا پھیلایا ہوا جھوٹ ہے جو چینی اور ایرانی سائنسدانوں کو بھی ”مغرب زدہ“ کر چکا ہے۔ لیکن سائنس دشمنی کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ چنانچہ ایران کے اصول گرا طبقے نے کرونا وائرس کی خبروں کو انقلاب کی سالگرہ اور اس کے بعد پارلیمانی انتخابات وغیرہ کو نقصان پہنچانے کے لئے امریکہ کا پروپیگنڈا کہا۔ولی فقیہ کے جتھے سے تعلق رکھنے والے ایرانی صحافیوں کو ایرانی سائنسدانوں کی طرف سے عوام کو آگاہ کرنے کی کوشش کو ناکام بنانے کا ٹاسک دے دیا گیا۔ اخباروں، ٹی وی اور منبروں پر اس وائرس کے وجود کی خبروں کو جھوٹی افواہیں کہا جانے لگا۔ پاکستان میں بھی ان صحافیوں کی نقل کرنے والے لاہور کے ایک مولوی صاحب نے  ایسی ہی باتیں کرنا شروع کر دیں۔

چین سے کورونا وائرس کو بذریعہ جہاز ایران لایا گیا

عقل اور علم کو معطل کر کے ہر معاملے میں ولی فقیہہ کی بات کی اندھا دھند پیروی کرنے والی سپاہ پاسداران انقلاب کی ہوائی جہازوں کی کمپنی ”ماہان ایئر“ نے‏چین کی طرف پروازیں جاری رکھیں۔ ایسے وقت میں جب چین سے باہر جانا مشکل تھا، ماھان ایئر چین سے لوگوں کے باہر نکلنے کا وسیلہ بن گئی۔ فروری 2020ء کے شروع میں ایرانی عوام کی طرف سے سوشل میڈیا پر ایرانی ایئر پورٹس کی ایسی کئی ویڈیوز پوسٹ کی جانے لگیں جن میں ماھان ایئر کے جہاز سے اترنے والے چینیوں کو دوسری فلائٹس پکڑ کر یورپ یا عرب ممالک جاتے دیکھا جا سکتا تھا۔ ان میں ایسے چینی بھی آ گئے جو چین کے اندر وبا پھیلنے کے خوف سے بھاگ رہے تھے مگر جراثیم ان کے بدن میں شامل ہو چکا تھا۔ یہ لوگ ایرانی ایئرپورٹس اور ماھان ایئر کے جہازوں پر اس وائرس کو منتقل کرتے رہے۔ چنانچہ سینٹرل ایشیا کے وہ ممالک جن کی سرحدیں چین سے ملتی تھیں، ان سے پہلے ایران نے اس وائرس کو درآمد کر لیا۔پڑھے لکھے ایرانیوں نے سوشل میڈیا پر ان پروازوں کے خلاف آواز اٹھائی تو سوشل میڈیا پر موجود نیم خواندہ دیہاتی بسیجی اور انقلابی جتھوں نے گالم گلوچ اورغداری کے الزامات سے ان کا منہ نوچ لیا۔ ان کے لئے ”اتحادِ عالم و معلوم“ کے عقیدے کے تحت ولی فقیہ خود دین تھا اور اس کی ہر بات کا دفاع واجب تھا۔ پارلیمنٹ کے الیکشن سے ایک ہفتہ پہلے ایران کے مختلف شہروں بالخصوص قم میں لوگ مرنا شروع ہو گئے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ وائرس جنوری میں ایران آ چکا تھا۔ ایران کے ڈاکٹروں نے ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کے پھیپھڑوں کا ایکس ریز کی مدد سے عکس بنا کر انتظامیہ کو دکھایا تو انہیں ہراساں کیا گیا۔ جاہلانہ اعتراضات کر کے ان کی رپورٹس کو مسترد کر دیا گیا۔ ڈاکٹروں نے عوام کو بتانا چاہا تو ان کو اسلام دشمنی کا طعنہ ملا۔

جس نے کورونا  کا نام لیا  وہ دشمن ہے

24 فروری 2020 کو پارلیمنٹ کے الیکشن کے بعد رہبر نے کہا کہ ایران میں کرونا وائرس کی افواہیں ”دشمن“ نے پھیلائی تھیں تاکہ عوام الیکشن میں شریک نہ ہوں۔ ایک ایسا عہدیدار جو اپنے ملک کے آئین سے بالاتر اختیارات رکھتا ہے اور اس کا فرض ہے کہ ایسے موقع پر محکمۂ صحت کی رپورٹ کو سنجیدہ لے، اس کی طرف سے ایسی غیر ذمہ دارانہ بات نہایت افسوسناک ہے۔ لیکن اس کی وجہ رہبر کی جہالت تھی، وہ اگر حقیقت کو سمجھ جاتے تو نہ صرف ماہان ایئر کی چین کو جانے والی پروازیں روک لی جاتیں بلکہ الیکشن کو بھی کچھ ماہ کے لئے ملتوی کیا جا سکتا تھا۔ اسی طرح 11 فروری کو انقلاب کی سالگرہ کے جلوس یا دیگر عوامی اجتماعات کو ملتوی کیا جا سکتا تھا۔ مقدس مذہبی مقامات پر زائرین کو دو تین فٹ دور رہنے کی ہدایت کی جا سکتی تھی، مساجد میں نماز باجماعت اور نماز جمعہ پر پابندی لگائی جا سکتی تھی۔ اس طرح وائرس کے پھیلنے کی رفتار کو ہسپتالوں میں موجود سہولیات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکتا تھا۔ ایران پہلے ہی پابندیوں کی زد پر ہے، اسے چین کی طرف پروازیں جاری رکھنے کی عیاشی زیب نہیں دیتی تھی۔

حقائق کو چھپانے کی روش

الیکشن کے بعد  24 فروری 2020ء کو ہی قم کے ایم این اے نے بیان دیا کہ میرے شہر میں پچاس کے لگ بھگ لوگ کرونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس پر رہبر کے حمایتی انقلابی جتھے نے ان پر ملک دشمنی کا الزام لگایا۔ عوام میں مرض پھیلنے لگا تو وہ خرافاتی علمائے کرام کی باتوں میں آ کر شفا ڈھونڈنے حضرت امام علی رضاؑ اور حضرت سیدہ معصومہؑ کے مزارات پر آ کر چھینکنے لگے۔

کچھ ڈاکٹروں سے عوام کا یوں اندھیرے میں قتل ہونا برداشت نہ ہوا تو انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر احتیاطی تدابیر اور اپنے ہسپتالوں کو درپیش مسائل کو ویڈیوز میں ریکارڈ کر کے شائع کر دیا۔ انہیں گرفتاری اور پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑا۔ جلوس، جمعہ، زیارات، الیکشن سمیت دیگر عوامی اجتماعات جاری رہے۔ کوویڈ-19 سے مرنے والوں کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ پر وجہٴ مرگ سانس کی تکلیف یا ہارٹ اٹیک لکھنے کا حکم دے دیا گیا۔ ایرانی انتظامیہ ولی فقیہ پر ایمان کی وجہ سے ڈاکٹرز کو ”دشمن“ کا ساتھی سمجھ رہی تھی، جبکہ حقیقت میں ولی فقیہ اپنی حماقت کی وجہ سے انجانے میں ایرانی عوام کے دشمن بن چکے تھے۔

بیماری پھیلنے کی خبروں کو عزاداری اور زیارت کے خلاف سازش قرار دیا گیا

جب قم اور مشہد کے زائرین میں یہ بیماری پھیلنے کی خبریں عام ہوئیں تو ایرانی علمائے کرام نے پینترا بدل کر ان خبروں کو عزاداری اور زیارت کرنے کے خلاف سازش قرار دیا۔ کسی بھی ملک میں ہر وقت کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے، لہٰذا اگر سازش کا ثبوت ڈھونڈے بغیر الزام لگانے کی عادت بنا لی جائے تو کسی بھی معاملے کو کسی ملکی سرگرمی کے خلاف سازش قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس نفسیاتی حالت کو مالیخولیا کہا جاتا ہے اور ایرانی علما کی اکثریت سیاسی مالیخولیا کا شکار ہیں اور ان کو ماہرینِ نفسیات سے علاج کروانے کی ضرورت ہے۔ بہر حال علمائے کرام کے اس جھوٹ کا نتیجہ یہ نکلا کہ سادہ لوح مریدوں نے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کیں اور سائنسدانوں اور ڈاکٹروں کی ہدایات سے کفر کیا۔ اصفہان میں تو مومنین کرام نے عزاداری کا جلوس نکال دیا۔

حقائق سامنے آنے کے بعد بھی قوم سے معافی نہ مانگی گئی

بہر حال نہ تو ارتقاء کی سائنس کوئی جھوٹ ہے نہ کرونا وائرس کوئی مذاق ہے۔ جلد ہی ایران میں حالات تیزی سے بگڑنے لگے۔ آہستہ آہستہ علمائے کرام کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے۔ ان کے اپنے رشتہ دار اور اہم حکومتی عہدیداروں میں اس بیماری کی علامات ظاہر ہونے لگیں۔ خطرہ سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ 27 فروری کو رہبر نے سرکاری ٹی وی پر آ کر اس وائرس کے وجود کا اقرار کیا اور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اس کا سامنا کرنے والے ڈاکٹرز اور نرسوں کا شکریہ ادا کیا، لیکن تکبر یا خوف کی وجہ سے اپنی غلطی پر معذرت نہ کی۔

مریضوں کی تعداد کو کم کر کے بتایا  گیا

یکم مارچ کو گرگان کے علاقے سے ایک سرکاری ہسپتال کے سربراہ کی طرف سے حکومتی اہلکاروں کو دی جانے والی بریفنگ کی ویڈیو سامنے آئی۔ اس ویڈیو میں وہ ثبوت دکھا کر انتظامیہ کے افسروں کو بتا رہے ہیں کہ ہمارے ہسپتال میں 594 مریض ایسے آئے ہیں جن کے پھیپھڑے بلغم سے بھرے ہیں، کچھ میں خون ہے۔ وبا کے زمانے میں اتنی بڑی تعداد میں ایسے مریض آنا اس بات کی علامت ہے کہ انہیں کرونا لگ چکا ہے۔ گرگان کا علاقہ وبا کے مرکز قم سے چھ سو کلومیٹر دور ہے۔ ایرانی حکومت کی طرف سے یکم مارچ کو ملک بھر میں مریضوں کی تعداد 978 بتائی گئی۔

آیت الله خامنہ ای اپنی 24 فروری والی تقریر سے صاف مکر گئے

3 مارچ کو آیت الله خامنہ ای دوبارہ پردہ سکرین پر نمودار ہوئے اور انہوں نے اپنی 24 فروری والی تقریر سے مکر کر صاف صاف جھوٹ بولا کہ ہم نے اس وبا کے بارے میں عوام کو بروقت مطلع کر دیا تھا۔ بہر حال اب چونکہ یہ وبا ایران کی ریاست کو ختم کرنے کی طرف گامزن تھی، دینی حلقوں کو علم کا تابع بنانے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ انہوں نے تمام محکموں کو ایرانی محکمۂ صحت کی ہدایات کی پیروی کرنے کی تلقین کی۔ محکمہٴ صحت نے پہلی فرصت میں لوگوں کے جمع ہونے کے مقامات کو لیبارٹریوں میں تیار کردہ خالص ترین میتھائل الکوحل سے دھویا اور شہروں میں جمعے کی نماز معطل کر دی۔ مشہد کے  آیت الله علم الہدیٰ نے اب ڈر کر نیا پیغام ریکارڈ کرا دیا جس میں لوگوں کو رش والی جگہوں پر اکٹھا ہونے سے روکتے ہوئے کہا کہ شفا یابی کے لئے امام رضا کے حرم پر آنے کے بجائے گھر بیٹھ کر توسل کریں کیوں کہ شفا ضریح پر لگے سونے چاندی سے نہیں ملتی۔ اگرچہ اب بھی کچھ علمائے کرام اور کچھ انقلابی لوگ ان مزارات پر جا کر انہیں اپنی زبان سے چاٹ رہے ہیں اور اس حرکت کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کر رہے ہیں، لیکن قم کے امام جمعہ آیت اللہ سعیدی کی طرف سے اعلانات کے باوجود ایرانی عوام کی اکثریت وائرس کے ختم ہونے سے پہلے ان مقدس مقامات کی زیارت کرنے بھی نہیں جا رہے۔ خواہش ہی کی جا سکتی ہے کہ آیت الله سعیدی جیسے جاہل علمائے کرام کے جھانسے میں آ کر ان مزارات پر زبان لگانے والے عقیدت مند بھی بیمار نہیں ہوں گے اور کرونا وائرس کے دوبارہ ان مزارات پر منتقل ہونے کا سبب نہیں بنیں گے۔

 وائرس کے وجود کو تسلیم کرنے کے بعد غیر سنجیدگی

اس وائرس کے وجود کو تسلیم کرنے کے بعد ایران میں ایک اور فاش غلطی کا ارتکاب کیا جاتا رہا اور وہ حکمرانوں کا سنجیدہ نہ ہونا تھا۔ مختلف مولانا حضرات یا عہدیدار اس میں مبتلا ہونے کے بعد ہنستے مسکراتے پیغام ریکارڈ کرا تے رہے کہ ”میں بھی کرونائی ہو گیا، ہا ہا“، جو کہ عوام کے زخم پر نمک چھڑکنے کے مترادف تھا۔ اس غیر سنجیدگی کی وجہ یہ ہے کہ یہ وائرس فرد کے لئے زیادہ خطرناک نہیں ہے۔ لیکن یہی چیز اسے معیشت کے لئے بہت خطرناک بناتی ہے۔اس وائرس میں سب سے خطرناک بات ہی یہ ہے کہ موت کا سبب بننے کی صلاحیت رکھنے والا یہ وائرس ابھی تک صرف دو سے آٹھ فیصد مریضوں کو مار رہا ہے۔ بیماری کے شروع کے دنوں میں مریض کو زیادہ نقصان نہیں پہنچاتا، اور اس وجہ سے وہ مریض بیماری سے بے خبر گھر میں محدود ہونے کے بجائے ادھر ادھر کھانستا اور زکام پھینکتا رہتا ہے۔ اس طرح یہ وائرس دوسرے لوگوں کو لگ جاتا ہے۔ چنانچہ اگر اس کے متاثرین کی تعداد بہت زیادہ ہو تو کم شرح کے باوجود اموات کی تعداد بڑھ جائے گی۔ یعنی اگر آنے والے چند ماہ میں یہ مرض ایران کی ساری آبادی کو لگ جائے تو آہستہ آہستہ اموات کی بڑھتی تعداد ملکی معیشت کا بھٹہ بٹھا دے گی، اور وہ شرح اموات جو نظام صحت اور غذائی اجناس کی تجارت کے قائم رہنے کی صورت میں دو فیصد ہونے کا امکان ہے، بیس فیصد تک بھی جا سکتی ہے۔ چنانچہ اس معاملے میں جاہل مجتہدین کرام کو لگام دینا بہت ضروری ہے۔

اس نکتے کو مزید بہتر سمجھنے کے لئے ایبولا وائرس کی مثال پر غور کریں جو 1976ء میں سامنے آیا اور اس کی شرح اموات 80 فیصد تھی۔ اس وائرس کی حالیہ وبا ابھی چند سال پہلے، 2013ء تا 2016ء، مغربی افریقہ میں آئی۔ لیکن چونکہ اس کی شرح اموات زیادہ ہے لہٰذا یہ وائرس مریض کو بہت زیادہ نقصان پہنچا کر جلد ہی موت سے ہمکنار کر دیتا ہے ۔ پس شرح اموات بلند ہونے کی وجہ سے اس سے متاثر ہونے والے لوگ بیماری کو معاشرے میں منتقل کرنے سے پہلے ہی گر جاتے ہیں۔ ایبولا میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد چند ہزار نفوس تک محدود رہتی ہے اور یہ ملک گیر یا عالمی وبا کی شکل اختیار نہیں کرتا۔

 نام نہاد  اسلامی سیاست کے بعد  طبِ اسلامی: یک نہ شد، دو شد

‏ایران  کے ساتھ ایک اور مذاق ”طبِ اسلامی“ اور ”طبِ اہلبیت“ کے نام سے بھی جاری ہے۔ ان لوگوں کو رہبر معظم کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ قم میں آیت اللہ تبریزیان ”طبی اجتہاد“ پر درسِ خارج دیتے ہیں۔ میڈیکل سائنس کو بھی ان صاحب نے حیوانات کے پیشاب کے نجس یا پاک ہونے کے مسائل جیسا کوئی معاملہ سمجھ رکھا ہے جسے یہ اجتہادی طریقوں سے سیکھ لیں گے۔ ایران کی میڈیکل یونیورسٹیوں میں ان کے شاگردوں کو ”دانشکدہٴ طبِ سنتی“ کے نام سے ڈپیارٹمنٹ بنا کر ملازمتیں دی گئی ہیں۔ ‏ایران میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد اس ”طبی مرجع“ نے اپنی ادویات کی مہم چلا دی جس کا مختصر جائزہ سابقہ مضمون بعنوان ”قم کا ابوجہل“میں پیش کیا جا چکا ہے۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب ایرانی ڈاکٹر ہسپتالوں میں ملک کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، یہ آیت الله اور ان کے شاگرد مختلف ویڈیو پیغامات اور اپنے ٹیلی گرام چینل پر ان کے خلاف گھٹیا مہم چلائے ہوئے ہیں، حالانکہ متعدد علمائے کرام ان کی معجونیں کھانے کے باوجود ہلاک ہو چکے ہیں۔

تا دمِ تحریر ایران میں اموات کی تعداد بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ شبیری زنجانی کی بہن اور بھانجا کرونا وائرس کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ہلاک شدگان میں آیت الله رضا لنگرودی، آیت الله ہاشم بطحائی، ‏مولانا جمال خلیلیان، مولانا محمد رضا شفیعی، مولانا ہادی خسروشاہی اور مولانا عبدالحمید مقدسیان شامل ہیں۔ آیت اللہ تبریزیان کے شاگرد مولانا شہریار شریفی کرونا وائرس کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔ وہ ایران کے قصبے صومعہ سرا میں مرکز طبِ معصومین کے منتظم تھے۔ سرکاری ملازمین میں سے ایران کی نائب صدر محترمہ معصومہ ابتکار اور نائب وزیر صحت اس مرض میں مبتلا ہیں جبکہ مرکزی سیکرٹری زراعت رضا پور خان علی، سپاہ پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف رمضان پور قاسم، رکن پارلیمنٹ محترمہ فاطمہ رہبر، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کے سیکرٹری مولانا حسین شیخ الاسلام سمیت کچھ نرسیں اور ڈاکٹرز فوت ہو چکے ہیں۔ باقی ممالک کی نسبت ایران میں آئی سی یو کی سہولیات میں کمی کی وجہ سے کئی جوان لوگ بھی راہی عدم ہوئے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے آٹھ فیصد اراکین اس بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں،عوام میں ٹیسٹ کٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے متاثرین کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

رہنما کی ایک اجتہادی غلطی نے قوم کو موت کے منہ میں دھکیل دیا

ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کی طرف سے کم علمی میں کی گئی اجتہادی غلطی کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ کرونا وائرس پورے ملک میں پہنچ چکا ہے۔ ایران کے بڑے شہروں میں عوام گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ ایک ماہ قبل ماہان ایئر کی چین کو جانے والی پروازیں اور انقلاب کی سالگرہ یا انتخابات وغیرہ کو نہ روکنے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پورے ملک میں زندگی کی سرگرمی بہت کم ہو گئی ہے، جس کا مطلب روزانہ کا بھاری معاشی نقصان ہے۔ پہلے عوامی اجتماعات کو ملتوی کیا جاتا تو اب لوگ کم از کم اپنے روزمرہ کے کام جاری رکھ سکتے تھے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ اس سارے معاملے میں پورے یقین سے صرف ایک بات کہی جا سکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کو اجتہادی خطا کی صرف ایک نیکی ملے گی۔ اس غلطی کا شمار بھی تاریخ کی ان معروف اجتہادی خطاؤں میں ہو گا جن کی وجہ سے ہزاروں لوگ مارے گئے۔

امریکی پابندیاں ایران کی عوام پر ظلم ہیں

آخر میں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ایران پر امریکی پابندیاں ایرانی محکمۂ صحت کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہیں۔ اب جبکہ ایرانی علما کی جہالت کی رکاوٹ کافی حد تک دور ہو چکی ہے، تیل کی دولت سے مالا مال یہ ملک اب پابندیوں کی وجہ سے یورپ ، امریکہ یا دوسرے ترقی یافتہ ممالک سے ادویات اور حفاظتی سامان نہیں خرید سکتا۔ ایران نے آئی ایم ایف سے پانچ بلین ڈالر کا ادھار مانگا ہے جو اس ادارے میں امریکی اثر و رسوخ کی وجہ سے ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اگرچہ جنوری میں مساجد اور دیگر عوامی مقامات پر رش ختم کر کے اموات کی تعداد چند سو تک محدود کی جا سکتی تھی، لیکن اب یہ تعداد لاکھوں میں ہونے کا امکان ہے۔ تہران کی بہترین درسگاہ، شریف یونیورسٹی، کے محققین کے علمی تخمینے کے مطابق اگر محکمۂ صحت کی شفارشات پر سختی سے عمل کیا جائے تو اموات کی تعداد بارہ ہزار تک بھی محدود کی جا سکتی ہے۔ لیکن چونکہ عوام کی اکثریت آپس میں میل ملاپ کے دوران ان ہدایات کا کما حقہ خیال نہیں رکھ پاتی، لہٰذا یہ تعداد ایک لاکھ دس ہزار ہلاکتوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اگر دینی حلقے دوبارہ علم کے باغی ہو جائیں اور عوام کو ورغلا کر سائنس سے کفر پر قائل کر لیں، تو اموات کی تعداد تیس لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔

پاکستان میں کورونا کے آنے کی وجہ زائرین  نہیں ، حکومتی کمزوری ہے

آخر میں یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ہمارے ملک میں کرونا وائرس کا آنا ناممکن نہیں تھا، نہ ہی یہ صرف ایران کے راستے سے آیا ہے۔ہمارے ملک میں یہ مرض چین، ایران، سعودی عرب اور یورپی ممالک سے آیا ہے۔ اس کا جائزہ 25 مارچ 2020ء کو شائع ہونے والے ایک مضمون بعنوان ”پانچ ہزار زائرین سے بڑا مسئلہ لاکھوں یورپ پلٹ افراد اور سائنس دشمن علماء ہیں“ میں پیش کیا جا چکا ہے۔ یورپی ممالک میں یہ بیماری اٹلی کے شہر وینس میں 23 فروری کو ہونے والے میلے سے پھیلی کہ جہاں پوری دنیا سے سیاح آئے تھے۔ ہماری حکومت نے تفتان بارڈر پر ایک خیمے میں متعدد افراد کو ٹیسٹ کیے بغیر رکھ کر صحت مند افراد کو بھی اس وائرس میں مبتلا کر کے نااہلی کا ثبوت بھی دیا ہے۔ ائرپورٹس پر بھی لوگوں کے حلق سے نمونے لے کر چیک کرنے کا کوئی بندوبست نہیں ہو سکا۔ بیرون ملک مقیم متعدد پاکستانی بھی نادانی میں ان ممالک میں اس وبا کے پھیلنے کی خبریں سن کر پاکستان لوٹے ہیں، اور اس دوران وہاں کے ائرپورٹس سے اس وائرس کو اٹھا لائے ہیں۔ پاکستان میں ٹیسٹ کٹس کے نہ ہونے کی وجہ سے بروقت تشخیص نہیں ہو سکی اور اعداد و شمار شائع نہیں ہو سکے ہیں، جس نےانہیں اس خوش فہمی میں مبتلا رکھا کہ شاید یہاں یہ وائرس نہیں پھیل رہا۔ اسی طرح بہت سے لوگ یہ سمجھتے رہے کہ گرمیوں میں یہ وائرس نہیں پھیلے گا، جب کہ گرمیوں میں بھی انسان کا جسم تو اسی درجۂ حرارت پر رہتا ہے۔ یوں مشرق بعید، خلیجی ریاستوں اور مغربی ممالک سے بہت سے پاکستانی راستے میں آلودہ ائرپورٹس سے وائرس اٹھاتے وطن آ گئے۔

اب ہم نے فرقہ وارانہ یا نسلی تعصب پھیلانے والی تنظیموں کے پراپیگنڈے میں آنے کے بجائے اس وائرس کا مل کر مقابلہ کرنا ہے۔ ہماری حکومت معاشی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے اس کا سامنا کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس وبا کا سامنا ہمیں مل کر اور سائنس سے رہنمائی لے کر کرنا ہے۔ ہسپتال اس وبا کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، لہٰذا ہمیں گھروں میں مریضوں کی دیکھ بھال کرنا سیکھنا ہو گا۔ ایران کی مثال سے ہم صرف یہ سیکھ سکتے ہیں کہ مذہبی علما ایران جیسے تیل سے مالا مال ملک کو بھی تباہی کے دہانے پر لا سکتے ہیں، لہٰذا ان کے بجائے سائنس اور جدید سماجی علوم سے رہنمائی لینی چاہیے۔

 نوٹ: علمی تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ یہ وائرس کسی لیبارٹری کی پیداوار نہیں ہے اور مصنوعی ارتقاء (جنیٹک انجینئرنگ) کا نتیجہ نہیں ہے۔ اس وائرس کے قدرتی ارتقاء کو سمجھنے کیلئے سترہ مارچ 2020ء کو ”نیچر میڈیسن“ نامی علمی جریدے میں شائع ہونے والے اس سائنسی مقالے کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے:




کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں