ایرانی عدلیہ عطائی حکیموں کی حمایت میں اتر آئی

لکھاری: حمزہ ابراہیم
ایرانی خبررساں ادارے ایلنا نے میڈیکل سائنس میں اجتھاد کا چٹکلہ چھوڑنے والے آیت اللہ عباس تبریزیان کی طرف سے بنفشے کے تیل اور حکیم مھدی سبیلی کی طرف سے اونٹ کے پیشاب کو کورونا وائرس کے علاج کے لئے استعمال کرنے کو ایک کارٹون کی شکل میں پیش کیا ہے۔ لیکن ایرانی پولیس نے ان دو ماہرین طبِ اسلامی کے بجائے کارٹون شائع کرنے والے ایلنا نیوز کے ایڈیٹر اور انسٹاگرام چینل کے ایڈمن کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایران کی قوہ قضائیہ نے ایلنا نیوز کے ایڈیٹر مسعود حیدری پر علمائے کرام کی توہین کا مقدمہ قائم کیا ہے۔

ایلنا کے ٹیلیگرام چینل پر شائع ہونے والا کارٹون


حقیقت یہ ہے کہ ایسنا نیوز نے تو ان کے بیان کردہ طریقہء استعمال کو تصویر کی شکل دی ہے۔ اگر اس معاملے میں کوئی توہین ہوئی ہے تو وہ ان دو علماء کی طرف سے انسانی شعور کی توہین ہے۔ لیکن ایرانی عدلیہ ان علمائے کرام کے بجائے ان پر تنقید کرنے والوں کو چپ کرانا چاہتی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ایران میں فقہ و اصول فقہ کا درسِ خارج دینے والے مجتھد آیت اللہ تبریزیان نے اپنے مریدوں کو کورونا وائرس سے بچنے کیلئے مقعد میں بنفشے کا تیل ڈالنے کا مضحکہ خیر حکم دیا تھا۔ آیت اللہ تبریزیان ایک عرصے سے طبی اجتہاد کے نام پر قدیم کتب سے مختلف امراض کے علاج کا استنباط کرنے کی کوشش میں لگے ہیں، لیکن اس غیر علمی راستے سے انکے ہاتھ صرف ایسے لطیفے ہی آئے ہیں۔ اسی طرح ایک اور عطائی حکیم مہدی سبیلی، جنہوں نے تہران میں امام صادق کے نام سے ایک مطب کھول رکھا ہے،نے احادیث کا حوالہ دے کر لوگوں کو کورونا سے بچنے کیلئے اونٹ کا پیشاب پینے کی تجویز دی تھی۔

ایران کی مذہبی حکومت نے ان مجتھدین کو جہالت پھیلانے سے روکنے کے بجائے ان کی جہالت کو بے نقاب کرنے والے صحافی کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان کے اس اقدام نے ہٹلر کے زمانے کی نازی عدالتوں کے مضحکہ خیر کردار کی یاد تازہ کر دی ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں